The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مسلم لیگ ن پر پابندی لگانے کا کبھی سوچنا بھی نہیں، نائب صدر ن لیگ مریم نواز … یہ پی ٹی آئی نہیں جس کو جنرل پاشا اور جنرل ظہیر السلام بنا کر چلتا بنا،یہ مشرف کی بنائی ہوئی … مزید

20

کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2020ء) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن پر پابندی لگانے کا کبھی سوچنا بھی نہیں، یہ پی ٹی آئی نہیں جس کو جنرل پاشا اور جنرل ظہیر السلام بناکر چلتا بنا،یہ مشرف کی بنائی ہوئی ق لیگ نہیں،یہ کروڑوں لوگوں کا تشخص ہے،تم ای سی پی جاؤ گے ہم فارن فنڈنگ کے ثبوت اورفوج کا مذاق اڑانے کی ویڈیوز لے کرتمہارے پیچھے آئیں گے۔انہوں نے پی ڈی ایم کے پیپلزپارٹی کے زیراہتمام کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی والو دیکھا کہ کل ایک شخص کل چیخ چیخ رہا تھا، لوگوں کو کہتا گھبرانا نہیں، لیکن خود ایک ہی جلسے سے گھبرا گیا ہے، ہم جانتے ہیں آپ دباؤ اور پریشر میں ہیں ۔ تقریر کے ایک ایک لفظ ، آپ حرکات اور سکنات سے آپ کا خوف جھلک رہا تھا، یہی خوف عوام دیکھنا چاہتی ہے، یہ عوام کی طاقت کا خوف ہے۔

(جاری ہے)

اگر آپ کو کوئی سکھانے والا نہیں تو نوازشریف سے ہی سیکھ لیتے، تم 126دن دھرنا دیا، لیکن نوازشریف نے تو ایک دن بھی گھبرا کر تمہارا نام نہیں لیا، ایک دن بھی نہیں گھبرایا۔ اب بھی نوازشریف تمہارا نام نہیں لے گا۔کیونکہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، تم تو ایک ملازم ہو، اب وزیراعظم کی سیٹ پر ملازم ہو۔ جس کی سلیکشن کی عوام کو لاکھوں کی تنخواہ دینا پڑتی ہے۔ تم کبھی عوام سے مخاطب نہیں ہوتے بلکہ نوازشریف اور ان لانے والوں کو ہی مخاطب ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کا نام لینا پسند نہیں کرتی۔مجھے کہا یہ بچی ہے لیکن نانی ہے، میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں ، میں ایک بچے کی نہیں دو بچوں کی نانی ہوں۔ یہاں جلسے میں بیٹھی بہت ساری خواتین نانیاں اور دادیاں ہیں۔میرے ایک نواسے کا نام محمد اور نواسی کا نام ہے۔ میں تھکی ہوتی ہوں تودونوں نواسے میرے پاس آتے ہیں تو تھکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔ میں آپ کو اس طرح کی باتوں پر نشانہ نہیں بناؤں گی، کیونکہ میں نوازشریف اور کلثوم نواز کی بیٹی ہوں۔ آج بھی میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں تو میرے والد کرسی سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔میں نے گھر میں یہ ماحول دیکھا ہے۔ یہ رشتے ان کو نصیب ہوتے جو رشتوں کا احترام جانتے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بیٹیوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔آصف زرداری بیٹی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔بلاول بھٹو مجھے بڑی بہن سمجھتا ہے۔جب وقت آئے گا تو ہم ایک دوسرے کے حریف بھی ہوں گے۔ہم ایک دوسرے کی تضحیک نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو کی والدہ شہید ہوئی تو جو میرے والد اور ان کی والدہ کا رشتہ تھا وہ بلاول اور میں نبھا رہے ہیں ۔ہم ہمیشہ ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر بزدل ہو، نوازشریف کی تقریر نہیں سنا سکتے، تو اس پر تبصرے کرنا بھی آپ کا حق نہیں ۔ تقریر ٹی وی پر نہیں چلی، لیکن آپ کہاں چھپ چھپ کر تقریر سن رہے تھے۔ کل کہتے کہتے رک گئے کہ نیب ہمارے ساتھ ہے، سچ اٹک جاتا ہے لیکن جھوٹ بڑی روانی سے بولتے ہو۔ کراچی جانتا ہے کہ نیب کس کے اشارے پر کام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹر نے جس نوکری پر تمہیں رکھا ہوا ہے، اس کے علاوہ کوئی کام کیا؟ ایسا شخص جس کا ہاتھ اس کے امیر دوستوں کی جیبوں پر ہو، اس کو الزام لگانے کا کوئی حق نہیں۔ایسے شخص کو بلاول یا مجھ پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بتاؤ ، آپ نے تو 50لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تم نے گھر چھین لیے، چولہے ٹھنڈے ہوگئے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا لیکن خاندان کے خاندان بے روزگار کردیے۔کراچی شہر میں پی ٹی آئی کے سب سے زیادہ جعلی ایم این ایز ہیں، کیا کوئی سڑ ک بنائی؟ کوئی کام کیا؟ کوئی ایک کارنامہ تو بتاؤ جو تم نے کیاہو۔ تمہارا کارنامہ بی آر ٹی ہے، جس کو تم 120ارب میں بنایا ہے، اس کے مقابلے میں 80ارب میں 4میٹرو بسیں چلائی گئیں۔ لاہور، کراچی، ملتان کی بسوں میں آگ نہیں لگتی، لیکن پشاور میں آگ لگ رہی ہے۔ روپے کو مٹی میں ملانا، غربت لانا، 5.8 شرح نمو کو زیرزمین لانا، کاروبار ، صنعتوں، کو تباہ کرنا ، سقوط کشمیر ہے تمہارا کارنامہ ہے۔پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا تمہارا کارنامہ ہے۔ پاکستان جن سے پاکستان کے اچھے تعلقات رہے، ان سے دور کردیا ہے۔جب جواب مانگا جاتا ہے۔جواب میں کہتے ہیں تم غدار ہو۔یہاں کراچی میں بابائے قوم ابدی نیند سو رہے ہیں، ان کی بہن فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا۔ہمیں غداری کی کہانیاں نہ سناؤ، فارن فنڈنگ کیس کھل جائے تو دنیا کو پتا چلے گا کہ غداری کیا ہوتا ہے۔ کتنی دیر میڈیا کو دباؤ گے؟ میر شکیل الرحمان کو جیلوں میں ڈالو گے۔ جب جواب مانگو تو کہتے نوازشریف مودی کی زبان بول رہا ہے، مودی کیلئے دعائیں کرو تم، کشمیر پلیٹ میں رکھ کر مودی کو دیا، بھارت کو ووٹ تم نے دیا، کلبھوشن کیلئے راتوں رات قانون پاس کرووکیل کروتم اور مودی کی زبان ہم بول رہے ہیں؟برہان وانی کا مقدمہ نوازشریف لڑے ، واجپائی پاکستان آئے، پاکستان کو مینارپاکستان پر سلامی دے، فوج دفاعی اداروں کے تنخواہیں بڑھانے والا نوازشریف، جے ایف تھنڈر بنانے والا نوازشریف،دہشتگردی کیخلاف دو جنگوں آپریشن ضرب عضب، ردالفساد کی قیادت کی ، سیاچن میں نوازشریف اور بے نظیر وہاں گئی، فوج کا حوصلہ بڑھایا۔ پھر کہتے نوازشریف مودی کی زبان بول رہا ہے۔ جب تمہاری ناکامیوں کی بات کی جاتی ہے تو تم فوج کی وردی کے پیچھے چھپ جاتے ہو، تم فوج کو آلودہ کرتے ہو، فوج پر سیاست کرتے ہو، کیا فوج تحریک انصاف کی ہے، عمران خان کی ہے؟ تمہیں فوج کا ٹھیکہ کس نے دیا ہے؟ فوج پاکستان کے عوام کی ہے۔فوج نوازشریف کی ہے، فوج ہم سب کی ہے۔ہاں نوازشریف نے اداروں کے درمیان آئین کی لکیر کھینچ دی ہے۔پاکستانیوں !ایک یا دوافراد ادارہ نہیں ہوتے، بلکہ بدنامی کا باعث بنتے ہیں، ہم حلف پر چلنے والے سپاہی، میجر ، بریگیڈیئر، میجرجنرل ہو، ہم سب سلام کرتے ہیں۔جو حکومتیں بناتا ہے، سازشیں کرتا ہے، ووٹ کی پرچی کو بوٹوں تلے روند دیتا ہے، عدلیہ سے مرضی کے فیصلے لیتا ہے، وہ ہمارے ہیرو نہیں ہیں، ان کو ہم نہیں مانتے۔نوازشریف کہتا ہے کہ سیاست میں دخل اندازی مت کرو، ووٹ پر ڈاکہ مت ڈالو، منتخب کرنے اور گھر بھیجنے کا اختیار صرف خلق خدا کو ہونا چاہیے ، وہ کہتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کی عزت کرو، اقامے پر گھر نہ بھیجو، جب وہ کہتا کہ عوامی مینڈیٹ کی عزت کرو، اس کا مطلب وہ کہتا ہے سندھ ، پنجاب، کے پی اور بلوچستان کے عوام کی عزت کرو۔ قائد اعظم نے بھی یہی کہی تھی۔ اگر قائداعظم آج زندہ ہوتے تو اس پر غداری کے مقدمے بنا دیے جاتے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی، جسٹس فائز عیسیٰ کو آئین پر چلنے کی سزا نہ دو، کیا وہ غلط کہتا ہے؟اگر یہ کہتا ہے تو کہتے ن لیگ پر پابندی لگا دیں گے۔ن لیگ پر پابندی لگانے کا کبھی سوچنا بھی نہیں، یہ مسلم لیگ ن ہے، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، یہ مشرف کی بنائی ہوئی ق لیگ نہیں ہے، یہ پی ٹی آئی نہیں جس کو جنرل پاشا اور جنرل ظہیر السلام بناکر چلتا بنا۔یہ کروڑوں لوگوں کا تشخص ہے، کروڑوں لوگوں کی ترجمان ہے۔ تم ای سی پی میں جاؤ گے ، ہم بھی پیچھے آئیں گے۔اور ثبوتوں کے ساتھ فارن فنڈنگ کی بات کریں گے، ویڈیو بھی لے کر جائیں گے جس میں تم نے فوج پر تنقید نہیں کی بلکہ مذاق اڑایا ہوا ہے۔پہلے کہا کہ اے پی سی نہیں ہوگی ، پھر جلسہ نہیں ہوگا، سب ہوگیا اب حکومت گھر بھی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More