The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

مرکز کا صوبے کے ساتھ آئینی حقوق میں سوتیلی ماں کا سلوک افسوسناک ہے،سردارحسین بابک … بجلی اور گیس ہمارے صوبے کی پیداور ہے اور اس پر ہمارے صوبے کا پہلا حق بنتا ہے، بجلی … مزید

3

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 13 ستمبر2020ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کا صوبے کے ساتھ آئینی حقوق کے حوالے سے سوتیلی ماں کا سلوک افسوسناک ہے۔ بجلی اور گیس ہمارے صوبے کی پیداور ہے اور اس پر ہمارے صوبے کا پہلا حق بنتا ہے، بجلی اور گیس کے استعمال اور آمدن سے صوبے کو محروم رکھنا ماورائے آئین اقدام ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا ہونے کے باوجودہمارے صوبے کے عوام بجلی کے استعمال کے لئے ترس رہے ہیں۔ آئین کے مطابق بجلی کی قیمت کا تعین ہمارا صوبہ کرے گی لیکن بدقسمتی سے سستی بجلی پیدا کرنے کے باوجود ہمارے صوبے پر مہنگے ترین نرخوں پر فروخت کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

بجلی کی قیمت کا تعین مرکزی حکومت کا آئینی اختیار نہیں ہے لیکن ہمارے صوبے کو کمزور سمجھ کر بجلی کی قیمتوں کا تعین وفاق کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کی بجلی پیداوار کو کس قانون کے تحت نیشنل گرڈ میں پہنچا دیا جاتا ہی ہمارے صوبے کی بجلی کو ہمارے عام اور انڈسٹری کے استعمال کے لئے ناپید کر کے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ ہمارے صوبے کی ارزاں بجلی کو ہمارے صوبے کی غریب عوام پر مہنگی نرخوں بیچنے کا مرکز کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ مرکزی حکومت آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور صوبے کی غریب عوام پر رحم کریں تاکہ یہاں ہزاروں بند کارخانے کھل جائیں اور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار وں کے لئے یہاں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، خام مال اور افرادی قوت یہاں موجود ہے لیکن ہمارے آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور ہمارے آئینی حق کو ہمیں دینے میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے صوبے کی ارزاں بجلی کے نرخوں کا تعین خود کریں گے اور صوبے کے آئینی حقوق کے لئے صوبے کے عوام کو متحد کرنے کے لئے گھر گھر اے این پی کا پیغام پہنچائیں گے۔ ہمارے لاکھوں نوجوان بیرون ممالک میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اگر ہم اپنے آئینی حقوق لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ہمارے صوبے میں تجارت ، سرمایہ کاری اور روزگار مہیا کرنے میں گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے ہر ضلع کوہمارے اپنے صوبے کی پیداوری گیس کو پہنچانے کے لئے آئین میں درج ضمانت پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کا گیس ہمارے اضلاع کو دستیابی کی صورت میں صوبہ ازخود جنگلات بن جائیگا، پانی ضائع ہونے سے بچ جائے گا، سارے صوبے میں سیاحتی مقامات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن جائیں گے اور موسمی اثرات سے خطے کو بچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی پختونوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ہر فورم پر صوبے کی عوام کی نمائندگی اور وکالت کرتے رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More