The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

/مائننز مالکان کے مسائل کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا توتین لاکھ سے زائدمزدور بے روزگار ہوجائیں گے ،میر بہروز بلوچ … / سندھ کے پی کے اور پنجاب سے زیادہ ٹیکس بلوچستان کے مائننز … مزید

8

آ*کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 13 ستمبر2020ء) مائننز مالکان کے مسائل کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا توتین لاکھ سے زائدمزدور بے روزگار ہوجائیں گے سندھ کے پی کے اور پنجاب سے زیادہ ٹیکس بلوچستان کے مائننز مالکان دے رہے ہیں جس پر شدید تحفظات لاحق ہیں ٹیکس دینے کے باوجود بجلی سڑک اوراسپتال سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بغیر پلاننگ کیے محکمہ ماحولیات کی طرف سے کلورومائڈ کرش پوائنٹس کو شہر سے باہر لیجانے کی باتیں مضحکہ خیز ہیںکورونا وائرس نے پہلے ہی ترقی کاعمل روک دیا ہے حکومت کے غیر ذمہ دارانہ فیصلے مزید نقصان پہنچا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے صدر میر بہروز بلوچ نے آل پاکستان مائنز اینڈ مننرلز ایسوسی ایشن کے اہم اجلاس سے خطاب میں کیا انہوں نے کہا کہ مائننگ کے شعبے کوحکومت نے آج تک انڈسٹری کے طور پر تسلیم نہیں کیا جبکہ بلوچستان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے بعد مائننگ کا شعبہ ہے جس نے لاکھوں مزدوروں کو روزگاردیا ہے لیکن حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ تین لاکھ خاندانوں کا چولہا بجھ سکتا ہے مائنزکے شعبے سے زیادہ تر وہ افراد وابستہ ہیں جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے صرف مزدوری کرنا جانتے ہیں اگر اس شعبے میں بے روزگاری بڑھ گئی تو امن و امان کی صورتحال مزید مخدوش ہو سکتی ہے کیونکہ بے روزگار مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کہاں مزدوری کریں گے بلوچستان میں پہلے ہی روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ایسوسی ایشن کے چیئر مین عبدالصمد رئیسانی نے کہا کہ ہمارے مسائل تینوں صوبوں سے زیادہ ہیں ٹیکسز، سیکورٹی، لائف انشورنس اور مختلف مد میں ہم پیسے دے رہے ہیں کورونا اورحالیہ بارشوں کے باعث کئی کوئلہ کانوں میں کام روکا ہے جس سے شدید نقصان پہنچا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں مائنز کیلئے بنک سے بھی قرضہ باآسانی نہیں دیا جاتا جسکی وجہ سے محدود پیمانے پر مائننگ کے شعبے سے وابستہ افراد شدید مالی طور پر متاثر ہورہے ہیں خدشہ ہے کہ کئی مائنز مالکان اپنا کاروبار بدل لیں گے جس سے براہ راست مزدور شدید متاثر ہونگے جبکہ بلوچستا ن کو بھی شدید مالی نقصان ہوگا کیونکہ مائننگ کا شعبہ مختلف طریقوں سے صوبے بڑے پیمانے پر ریونیو جنریٹ کر کے دے رہا ہے لیکن افسوس بلوچستان حکومت نے ایک بار پھر ٹیکسز کو بڑھادیئے ہیں عالمی وبا کرونا کے باعث مائننگ سیکٹر تباہی کی جانب گامزن ہے ایسے میں نئے ٹیکسز کا اجرا کرنے سے یہ شعبہ مزید زبوں حالی کا شکار ہوگاسند ھ کے پی کے اور پنجاب سمیت تینوں صوبوں کی نسبت بلوچستان میں ٹیکس سب سے زیادہ ہیں جبکہ ہمارے پاس بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی جام کمال اپنی جماعت کو بلوچستان کی ترقی کا ضامن کہتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں کون ایسے مشورے دے رہا ہے جس سے صوبے کا سب سے اہم شعبہ شدید متاثر ہو رہا ہے لیکن حکومت اس سے لاعلم ہے اس موقع پر میر صلا الدین،سعید آغا، عبدالرحیم کاکڑ، سلیم سیاپاد، امجد صدیقی، باسط لہڑی اور دیگر نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ماحولیات کی جانب سے بغیر پلاننگ کیے کلورومائڈ کرش پوائنٹس کو شہر سے باہر لیجانے کی باتیں کی جارہی ہیں جسے مضحکہ خیز سمجھتے ہیں محکمے نے موحولی آلودگی کی بات تو کی ہے جسے ہم تسلیم بھی کر لیں لیکن بتایا یہ جائے کہ ہم اپنا یہ کاروبار لیکر کہاں جائیں حکومت کی طرف سے جو متبادل جگہ بتائی بھی جارہی ہے تو وہاں کیا سہولیات ہیں جسکی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کیا جائے ایک اعلامیہ جاری کرنے سے اس طرح اتنے بڑے کاروبار کو شفٹ نہیں کیا جاسکتا جس سے ہزاروں گھروں کا روزگار وابستہ ہے انہوں نے خطاب میں کہا کہ محکمے کے حکام مالکان سے بات کریں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل مکمل منصوبے کے تحت بنایا جائے تاکہ ہزاروں مزدوروں کا روزگار متاثر نہ ہو اور فیصلہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے بلوچستان ملک کا غریب صوبہ ہے صوبے کے عوام کے پاس مائنز اینڈ منرل کے علاوہ یہاں کوئی کاروبار نہیں ہے اس وقت 3لاکھ سے زائد گھرانوں کا گزر بسر مائنز اینڈ منرل کے شعبے سے وابستہ ہے اگر صوبائی حکومت کی جانب سے آئے روز نت نئے ٹیکسز کا اجرا اور اس طرح کے فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا تو پھر اس شعبے کو تباہی سے کوئی نہیں بچاسکتا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام تحفظات سے متعلقہ محکموں اور حکومت کے ذمہ داروں کے آگاہ کیا جائے گا

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More