The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاہور ہائیکورٹ کا خاتون کیساتھ گینگ ریپ کے واقعہ کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم … ماورائے عدالت کوئی کام نہیں ہونا چاہیے، ملزمان کو پکڑ کر ٹرائل کریں اور … مزید

7

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) لاہور ہائیکورٹ نے لاہور،سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعہ کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں ماورائے عدالت کوئی کام نہیں ہونا چاہیے، ملزمان کو پکڑ کر ٹرائل کریں اور قانون کے مطابق سزا دیں،فاضل عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سی سی پی او کے بیان پر پوری کابینہ کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے تھی ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے لاہور ،سیالکوٹ موٹر زیادتی کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران درخواست گزار اور سرکاری وکیل پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر عمر شیخ کی جانب سے موٹروے ریپ کیس کے بعد دئیے گئے متنازعہ بیان کا معاملہ بھی آیا جس پر عدالت نے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

(جاری ہے)

دوران سماعت درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ یہ کیس انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے استدعا ہے کہ کمیشن بنانیکاحکم دیا جائے ۔چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے استفسار کیا کمیشن کیسے تشکیل پاتا ہے، جس پر درخواست گزار نے بتایا کہ قانون میں تو کمیشن حکومت تشکیل دیتی ہے جس پر فاضل عدالت نے کہا کہ مجھے قانون بتادیں ۔سرکاری وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ اس کیس میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیسی انکوائری ہے کہ محکمے کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے۔اس دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر قانون کا کیا کام ہے۔سی سی پی او لاہور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان پر تو پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔اگر اس ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنی حقیقت اور کتنی ڈرامے بازی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھا کہ ایک مشیر بھی وہاں پہنچا ہوا تھا، اس کا کیا کام ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو ریکارڈ سمیت دوپہر ایک بجے تک طلب کرتے حکم دیا کہ اب تک جو تفتیش ہوئی ہے اس کا ریکارڈ لے کر آئیں اوراگر سی سی پی او کو شو کاز ہوا ہے تو وہ بھی لائیں اور ریکارڈ بھی لے کہ آئیں جس کے بعد سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا۔وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو عدالتی حکم پر سی سی او عمر شیخ پیش ہوئے۔اس موقع پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ آپ نے وہ نوٹیفکیشن دینا تھا جس کے تحت انکوائری کمیٹی بنی ہے، جس پر وکیل نے صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کردیا۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہاں کمیٹی، کمیٹی نہیں کھیلا جاسکتا، یہ بتائیں کمیٹی میں کون کون ہے جس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ وزیر قانون، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، فرانزک اور دیگر افسران کمیٹی کے رکن ہیں۔سرکاری وکیل کی بات پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کمیٹی نے 13 ستمبر کو رپورٹ دینی تھی کیا رپورٹ آئی ہے ۔نفی میں جواب آنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی وائرلیس کریں اور رپورٹ فوری منگوائیں۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران پوچھا کہ آئی جی نے سی سی پی او کو کیا شوکاز نوٹس دیا ہے، اس پر وکیل نے بتایا کہ آئی جی نے موٹروے ریپ کیس کے بارے میں متنازعہ بیان دینے پر سی سی پی او کو نوٹس دیا ہے اور سات دن میں جواب مانگا ہے۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ اگر سی سی پی او تسلی بخش جواب نہیں دیتے تو ان کے خلاف ریفرنس بنا کر بھیجا جائے گا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شوکاز نوٹس میں کسی رولز کا ذکر نہیں ہے کہ کس قانون کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر عدالت میں موجود سی سی پی او نے کچھ کہنے کی استدعا کی۔جس پر چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ سرکاری وکیل موجود ہے، جب آپ سے پوچھیںتب آپ بتائیں، یہ کارنامہ بھی آپ سے پوچھیں گے آپ تسلی رکھیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی تفتیش سے متعلق سوالات کرنا شروع کیے جس پر سی سی پی او روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ پولیس 20 منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئی تھی۔اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ موٹروے ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کے بعد خاتون کو کہا گیا آپ ہائی وے سے رابطہ کریں، ہائی وے والوں نے کہا کہ پولیس سے رابطہ کریں، اس پر سی سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ میں موٹروے میں بھی خدمات انجام دیتا رہا ہوں، بد قسمتی سے موٹروے پر سکیورٹی نہیں تھی۔ان کی بات پر عدالت نے استفسار کیا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کب اوپن ہوئی ہے جس کے جواب میں سی سی پی او کا کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے یہ موٹروے فعال ہوئی ہے لیکن اس موٹروے پر کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔سی سی پی او کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ تک میری اتھارٹی ہے، ہمیں بہتر کوارڈی نیشن کرنی چاہیے تھی، موٹروے پر ایف ڈبلیو او نے اس خاتون سے پولیس کی کانفرنس کال کرائی، جیسے ہی خاتون ہمارے سسٹم میں داخل ہوئی اس کی داد رسی کی گئی۔عمر شیخ کے مطابق انہوں نے معاملے کی فوری سائنسی تفتیش شروع کروائی۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈولفن فورس والوں نے وہاں کیا دیکھا، جس پر سی سی پی او نے کہا کہ جب ڈولفن فورس والے آئے تو انہوں نے ہوائی فائرنگ کی جس پر وہ خاتون بولی کہ ہم نیچے ہیں جس کے بعد ڈولفن والے نیچے گئے جہاں خاتون نے بچوں کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ڈولفن فورس والوں نے ہائی کمانڈ کو آگاہ کیا اور اس دوران موقع پر سب پہنچ گئے جبکہ خاتون ایس ایچ او بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔سی سی پی او نے مزید بتایا کہ پانچ بجے کے قریب گوجرانوالہ سے خواتین اور ایک مرد آئے جبکہ ہم نے متاثرہ خاتون کو ہسپتال منتقل کیا جہاں تھوڑی دیر رہنے کے بعد انہوں نے جانے پر اصرار کیا۔سی سی پی او کی بات پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ سانحے والے واقعے پر میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بس اتنا کہوں گا کہ ماورائے عدالت کام کی کسی کو اجازت نہیں ہے، یہ ساہیوال والے کیس میں بھی خاندان بے گناہ تھا۔اس پر عمر شیخ کا کہنا تھا کہ ابھی تحقیقات چل رہی ہے، میں نے دعوی کیا تھا کہ 48 گھنٹوں میں ملزمان پکڑے جائیں گے، میں زیادہ بڑے دعوے نہیں کرتا لیکن اتنا کہوں گا کہ 3 ماہ بعد آپ مجھے بلاکر خود شاباش دیں گے۔سی سی پی او نے کہا کہ میرے بیان سے خاتون کی اگر دل آزاری ہوئی تو میں سب سے معافی مانگتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بیان بھی سوچ سمجھ کر دینا چاہیے، اس معاملے پر پنجاب حکومت کو بھی معافی مانگنے چاہیے، حکومت کو پوری قوم سے بھی معافی مانگنی چاہیے، ایک تاثر چلا گیا ہے کہ سڑک پر ہماری بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، ایک خاتون اس اعتماد کے ساتھ نکلی کہ میں موٹروے پر محفوظ جا رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ خاتون اور بچے ساری زندگی کس کرب میں رہیں گی آپ کو اندازہ ہے، اس پر سی سی پی او نے کہا کہ خدا کی قسم ہمیں (پولیس)کو سزائیں دیں تاکہ ہم ٹھیک ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ وقت بھی گیا کہ کسی کو معافی ملے گی سب کو پکڑیں گے۔دوران سماعت عدالت میں واقعے سے متعلق سی سی پی او نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد ڈی جی نادرا سے رات کو فوری بات کی اور ریکارڈ نکلوایا جبکہ خاتون سے ملزمان کا حلیہ بھی پوچھا اور ہم نے اپنا کام شروع کر دیا۔سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ہم نے خاص حلیے کے 53بندے پکڑ کہ ڈی این اے کرائے، ہم نے جیو فینسنگ کی، اس دوران ملزم عابد کا ڈی این اے میچ کرگیا۔عمر شیخ کے مطابق ملزم عابد پہلے بھی ماں، بیٹی سے زیادتی کرچکا ہے جبکہ دوسرے ملزم وقار کے ساتھ عابد کے تعلقات تھے اور وقار کی لوکیشن بھی وہیں کی آرہی تھی۔کیس کے ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے مارے گئے چھاپے سے متعلق سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ملزم نے ڈیرے پر آتی گاڑیاں دیکھ لیں جبکہ اس ملزم نے ہاتھ پر پٹی بھی باندھی ہوئی تھی۔سی سی پی او کا کہنا تھا کہ ایک ملزم وقار الحسن ہمارے پاس پیش ہوگیا اور اس نے پولیس کو بیان بھی دیا ہے، تاہم اب پولیس ایک اور ملزم کے پیچھے ہے اور اسے جلد پکڑ لیں گے۔عدالت میں لاہور پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ وہ ملزم نہیں ہیں جنہوں نے جاکر بندے مارنے ہیں ان کو جلدی پکڑ لیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ملزم پر مجموعی طور پر 3 مقدمات ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میرے لیے یہ خدشے کی بات ہے کہ ریپسٹ صلح کی بنیاد پر باہر آگیا۔بعد ازاں عدالت نے موٹروے ریپ کیس کے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے سی سی پی او سے واقعے سے متعلق تفصیلی تحریری رپورٹ طلب کرلی۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو پورے صوبے کے روٹس کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ دیہات کی سڑکوں پر پولیس روز دوگھنٹے گشت کرے، ساتھ ہی میڈیا کو بھی کہا کہ وہ کوئی ایسی چیز رپورٹ نہ کرے جو ملزم کو فائدہ دے سکتی ہو۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ریپ کیس میں ماورائے عدالت کوئی کام نہیں ہونا چاہیے، ملزمان کو پکڑ کر ٹرائل کرکے قانون کے مطابق سزا دیں۔عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More