The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے مفاد عامہ کے سا ڑھے بارہ برس پرانے مقدمے میں وفاق کی اپیل مسترد کردی … ڈویژن بنچ نے سرکاری اراضی کو سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ … مزید

5

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے مفاد عامہ کے ساڑھے بارہ برس پرانے مقدمے میں وفاق کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سرکاری اراضی کو سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کے احکامات جاری کردیئے ۔عوامی مفاد کے معروف ڈھوک سیداں گرائونڈ کیس کے فیصلے کے خلاف وفاق کی اپیل کی سماعت پیر کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد جمیل خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی ۔عدالت عالیہ نے طویل مقدمے کی 70سے زائد سماعتوں کے بعد فیصلے کے خلاف وفاق کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیاکہ درخواست گذار فیصلہ کی کاپی براہ راست صدر مملکت کو بھجوائیں تاکہ اراضی کے مفاد عامہ کے استعمال کا نوٹیفکیشن جلد ہوسکے ۔

(جاری ہے)

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے اپنے فیصلے میں سرکاری اداروں کو ڈھوک سیداں اراضی کی فروخت کی ممانعت کرتے ہوئے اراضی سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ کے لیے مختص کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

ڈھوک سیداں راولپنڈی میں واقع 108کنال اراضی کیس کا محفوظ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے جج جسٹس خالد محمود ملک نے 22جنوری 2018 کو سنا یا تھا۔ڈھوک سیداں اراضی کیس کا فیصلہ جسٹس فرخ عرفان خان نے پٹیشن کی طویل سماعت کے بعد اکتوبر2017 میں تحریر کیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف وفاق نے بعد ازاں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس عباد الرحمن لودھی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے منظور کرتے ہوئے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا ۔مقدمے کے وکیل انعام الرحیم یڈووکیٹ نے کہاکہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس پر کماحقہ عمل در آمد کے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ یہ سرکاری راضی مفاد عامہ کے لیے زیر استعمال لائی جاسکے ۔مفاد عامہ کے مشہور مقدمے کے درخواست گذار صدر شفاف سوسائٹی غازی آباد راولپنڈی کینٹ محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ نے اے پی پی کو بتایاکہ انہوں نے علاقہ مکینوں کی جانب سے 16اپریل 2009میں اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ایک درخواست بھجوائی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حلقہ این اے 52اور حلقہ این اے 54کے سنگم پر واقع غازی آباد کے علاقے میں لاکھوں نفوس پر مشتمل گنجان آبادی ہے تاھم علاقہ مکینوں کے لیے سرکاری سکول ،ہسپتال اور نہ ہی کھیل کا میدان موجود ہے جبکہ ڈھوک سیداں میں 108کنال 09مرلہ جگہ موجود ہے جسے علاقہ مکینوں کی ضروریات کے مطابق سکول کالج ہسپتال اور کھیل کے میدان کے لیے مختص کیاجائے۔انہوں نے بتایاکہ بعدازاں اسی درخواست کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پٹیشن کا حصہ بنایا گیا اور عدالت عالیہ کو بتایاگیا کہ مذکورہ جگہ مختلف سرکاری اداروں کو الاٹ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل مذکورہ اراضی کی نیلامی کی کوشش بھی کی گئی جس پر شہریوں نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔محمدانوار ڈار ایڈووکیٹ نے بتایاکہ اس ضمن میں فاضل جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔یہ فیصلہ بعدازاں 22جنوری2018کو سنایا گیا تھا۔16اپریل 2009سے 14ستمبر 2020تک مقدمے کا فیصلہ ہونے تک مجموعی طور پر ساڑھے بارہ برس لگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More