The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاہور موٹر وے پر اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعہ کے خلاف جماعت اسلامی پنجاب کا 17ستمبر کو وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر عوامی احتجاجی دھرنے کا علان … ‘ا میر جماعت اسلامی پنجاب … مزید

16

) $ لاہور (آن لائن) لاہور موٹر وے پر اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعہ کے خلاف جماعت اسلامی پنجاب میں 17ستمبر کو وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر عوامی ا حتجاجی دھرنے کا علان کر دیا ۔ ہم لاہور کے بعد تونسہ میں بھی خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صوبہ پنجاب میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ شرمناک جرائم میں اضافہ لمحہ فکریہ اور پنجاب حکومت کی ناکامی کا منہ پولتا ثبوت ہے۔ امن و امان کی ذمہ داری براہ راست حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے مگر صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے ۔صوبے میں لاقانونیت کی انتہا ہوچکی ہے۔ جبکہ پولیس کا رویہ بے حسی پر مبنی ہے۔ جماعت اسلامی نے زینب الرٹ بل میں جنسی درندوں کو سزائے موت دینے کی ترمیم پیش کی تھی۔

(جاری ہے)

مگر بد قسمتی سے تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہی اس قانون کو منظور نہیں ہونے دیا۔ آج ان تینوں جماعتوں کے لوگ قومی میڈیا پر بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو کے بہارہے ہیں۔ قوم ان کے اصلی چہرے دیکھ چکی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنائیں گے ، کیا یہی وہ فلاحی ریاست ہے جس کا خواب قوم کو دکھایا جارہا تھا ۔ اسلامی شرعی قوانین باعث رحمت ہیں اور اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نظام کو نافذ کیا جائے۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے ٹھیک کہا ہے کہ ملک میں پولیس کمانڈ غیر پیشہ ورانہ افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ محکمہ پولیس کی ساکھ کو بحال کرنا ہوگا اور وہ صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوںگے۔ حکومت ایمرجنسی کال ریسپانس سسٹم کو موثر کرے۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 2برسوں کی قلیل مدت میں پنجاب میں 5آئی جیز تبدیل کر دیے گئے ہیں مگر امن وامان کے حوالے سے مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان کو جنسی زیادتی کے 10بدترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔جنوری 2014تاجون2017تک پنجاب میں 10ہزار سے زائد عصمت دری کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ صرف پنجاب میں 2019میں 3ہزار 881ریپ کیسز رجسٹر ہوئے ۔پاکستان میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6ماہ کے دوران ملک بھر میں یومیہ 8سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔سالانہ کے حساب سے یہ اوسط تعدا د 2920بنتی ہے ۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 6ماہ میں173 بچوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ 497بچو ں کے ساتھ زیادتی ،227کے ساتھ زیادتی کی کوشش اور 38بچو ں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ۔قتل ، اغواء ، ڈکیتیوں اورچوریوں کے باعث بھی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جرائم کا گڑھ بنا ہو اہے۔ پنجاب میں جرائم کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ، ہر منٹ میں 150سے زائد وارداتیں ہورہی ہیں۔ جرائم کی شرح کے حوالے سے لاہور سر فہرست جبکہ راولپنڈی دوسرے ، ملتان تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں روزانہ 150سی200 گاڑیاں ، 500سے 600موٹر سائیکل اور 3ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جارہے ہیں۔ پنجاب میں قتل اور جرائم کی بڑھتی وارداتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی ۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ صوبے میں قتل ، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ بزدار حکومت نے 22ماہ میں پانچ آئی جی تبدیل کردیے لیکن پنجاب پولیس کی کارکردگی پھر بھی بہتر نہیں ہوسکی۔ پنجاب پولیس بچوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ لاہور میں ہونے والے دلخراش واقعہ پر سی سی پی او کا بیان انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ان کے بیان پر عوامی و سیاسی حلقوں سے شدید ردعمل سامنے آیا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ سی سی پی او لاہور مسلسل ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا افسوس ناک واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلت کی انتہا ہو چکی ہے ۔طرفا تماشا یہ ہے کہ جو آئی جی پنجاب اور دیگر پولیس افسران تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرتے،ان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے ۔نتیجہ یہ ہے کہ کہ پنجاب پولیس اپنے پیشہ وارانہ فرائض میں مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہو رہی ہے ۔جب تک پنجاب پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک امن و امان قائم نہیں ہو سکے گا ۔ابھی حال ہی میں آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے درمیان محاذ آرائی سے میڈیا میں پنجاب پولیس کی بدترین صورتحال سامنے آئی ہے ۔اس لئے پنجاب کا اب پانچواں آئی جی بھی تبدیل کر دیا گیا ہے ۔پولیس پر بڑھتے ہوئے سیاسی دبائو سے پنجاب میں جرائم کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے ۔شہر ی غیر محفوظ ہو چکے ہیں حالات دن بدن خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبہ پنجاب میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ موٹر وے کے تما م ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔سی سی پی او لاہور کے افسوسناک بیان اور ڈھٹائی پر ان سے فوری استعفیٰ لیا جائے۔ پنجاب پولیس میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت کو ختم کر کے اسے سیاسی دبائو سے آزاد کیا جائے ۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات کا تدارک ہو سکی

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More