The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری پولیس کے چیلنج بن گئی ،شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا … مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے کے باعث کیس … مزید

10

مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے کے باعث کیس کی تفتیش تبدیل کر کے انسپکٹر رینک کے افسر کو سونپ دی گئی
گرفتار اور زیر حراست ملزما ن سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں چھاپوں کا سلسلہ جاری ،گرفتاری کیلئے روایتی پولیسنگ شروع

بدھ ستمبر
17:16

لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری پولیس ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پولیس کے چیلنج بن گئی ،مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے کے باعث کیس کی تفتیش تبدیل کر کے انچارج انویسٹی گیشن پرانی انار کلی کو بھجوا دی گئی، پولیس نے بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لئے عابد ملہی کا شناختی کارڈ بلاک کروادیا۔ذرائع کے مطابق پولیس سمیت دیگر حساس ادارے لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے لئے کوشاں ہیں لیکن انہیں ابھی کامیابی نہیں مل سکی ۔ اس کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی ٹیموں نے گزشتہ روز بھی زیر حراست اور گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے ۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں واقعہ کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش انچارج انویسٹی گیشن گجرپورہ سے لے کر انچارج انوسٹی گیشن پرانی انار کلی کو دیدی گئی ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی دفعات کی تفتیش انسپکٹر رینک کا افسر کرسکتا ہے، ، گرفتارملزم شفقت اورفرار ملزم عابد کے ڈی این اے رپورٹ ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے، مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بھی بلاک کروادیا گیا تاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شفقت کی نشاندہی پرعابد کی گرفتاری کے لیے اب تک چھیاسٹھ چھاپے مارے جاچکے ہیں، مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے اب ٹیکنیکل ونگ بے سود ہوگیا، ملزم نے اپنا موبائل فون استعمال کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے اب روایتی پولیسنگ کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More