The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاہورواقعہ کے بعدخواتین عدم تحفظ کاشکارہیں،ثمربلور

10

پشاور۔16 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمر بلور نے کہا ہے کہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،عوامی نیشنل پارٹی اس جیسے واقعات کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ مذکورہ متاثرہ خاتون کو نشانہ بنانے والے سی سی پی او لاہور کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے عہدے سے ہٹایا جائے۔انفارمیشن کمیٹی کے اراکین صلاح الدین مومند، رحمت علی خان، حامد طوفان اور میاں بابر شاہ کاکا خیل کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور کا کہنا تھاکہ ایسے واقعات رونما ہونے کی وجہ سے خواتین عدم تحفظ کی شکار ہیں اور عوامی مقامات پر جانے سے خوف محسوس کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ایسے قوانین بنائیں کہ خواتین جب گھروں سے نکلیں تو ان کو احساس ہوں کہ ریاست ان کا تحفظ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع مومند میں زیارت ماربل کا سانحہ المناک ہے، تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعلی نے سانحے کے متاثرین کے لئے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن اب بھی ایسے بہت سے خاندان ہیں جن کو معاوضہ نہیں ملا، صوبائی حکومت مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تمام متاثرہ خاندانوں کی امداد اور زخمیوں کو مناسب علاج کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امدادی پیکج کے لئے اعلان کئے گئے فنڈ اور تقسیم کے طریقہ کار کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے۔ ضلع مومند میں اعلی درجے کی ماربل کانیں ہیں، حکومت کو چاہیئے کہ مائیننگ کے طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جاسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضم اضلاع کے لوگوں نے قیام امن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، حکومت وقت تمام ضم اضلاع میں صحت اور ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کے مراکز قائم کریں تاکہ مستقبل میں حادثات کی صورت میں بروقت امدادی کاروائیاں عمل میں لائیں جاسکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More