The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

لاپرواہی سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا اپنے اوردوسروںکیلئے حادثے کا سبب ہے ،فرخ رشید … رواں سال میں88,467ڈرائیورز کے خلاف کاروائی کی گئی ،خصوصی ٹریفک ایجوکیشن اینڈ انفورسمنٹ … مزید

17

رواں سال میں88,467ڈرائیورز کے خلاف کاروائی کی گئی ،خصوصی ٹریفک ایجوکیشن اینڈ انفورسمنٹ مہم کے ذریعے شہریوں کو روڈ سیفٹی کے متعلق ہر ممکن آگاہی فراہم کی جا رہی ہے ،ایس ایس پی ٹریفک

پیر ستمبر
19:56

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) ایس ایس پی ٹریفک فرخ رشید نے کہا ہے کہ لاپرواہی سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا اپنے اوردوسروںکے لیے حادثے کا سبب ہے رواں سال میں88,467ڈرائیورز کے خلاف کاروائی کی گئی ہے خصوصی ٹریفک ایجوکیشن اینڈ انفورسمنٹ مہم کے ذریعے شہریوں کو روڈ سیفٹی کے متعلق ہر ممکن آگاہی فراہم کی جا رہی ہے ہماری اولین ترجیح اسلام آباد کو حادثات سے پاک کرنا ،ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہیمگر پہلے سلام پھر کلام اور پھر چالان کی پالیسی پر عمل یقینی بنایا جائے شہریوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ٹریفک پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے شب و روز خصوصی اقدامات کر رہی ہے اس ضمن میں لاپرواہی سے گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے ڈرائیوروں کے خلاف خصوصی کریک ڈائون جاری ایسے افراد کے خلاف معمول کی کاروائی کے علاوہ خصوصی اسکوڈ بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو اپنے اپنے زون میں لاپرواہی سے ڈرائیو کرنے والوں کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں ہے ایس ایس پی ٹریفک نے تمام زونز انچارج کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کو حادثات سے پاک کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے لاپرواہ ڈرائیورز اپنے اور دوسرے شہریوں کے لیے حادثات کا باعث بنتے ہیں ان کے خلاف ہر صورت قانونی کاروائی کی جائے ایس ایس پی ٹریفک نے آئی ٹی پی ایجوکیشن ٹیم کو خصوصی ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی کے متعلق بھر پور آگاہی بھی فراہم کی جائے اور ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا، مگر پہلے سلام پھر کلام اور پھر چالان کی پالیسی پر عمل یقینی بنایا جائے شہریوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More