The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

قومی اسمبلی میں گوجرپورہ لنک روڈ پر پیش آنے والے واقعہ پر بحث، (آج) بھی جاری رہے گی

22

پیر ستمبر
21:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) قومی اسمبلی میں پیر کو گوجرپورہ لنک روڈ پر پیش آنے والے واقعہ پر بحث شروع ہوگئی جو (آج) منگل کو بھی جاری رہے گی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ حکومت شہریوں کو اعتماد دیتی ہے لیکن لاہور پولیس افسر کے بیان سے اعتماد مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ واقعات کے نتائج آتے تو اس طرح کا واقعہ رونما نہیں ہونا تھا۔ جرائم کی سزائیں موجود ہیں لیکن اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ پورا پاکستان اس واقعہ پر رنجیدہ اور دل گرفتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظالم کی صنف نہیں ہوتی۔ جو عورتوں کی عزت لوٹتا ہے وہ نامرد ہوتا ہے۔ قرآن اور سنت کے مطابق سزائوں کا اطلاق کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ جو اندوہناک واقعہ ہوا ہے وہ قابل افسوس ہے۔

اس طرح کے واقعات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ بچیوں کی عصمت دری پر سرعام پھانسی دینے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ مفتی عبدالشکور نے کہا کہ زمین پر فساد کرنے والوں اور فحاشی پھیلانے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سزائیں مقرر کی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سنگین جرائم پر سرعام سزائیں ہمارے دین میں ہے۔ جب تک ہماری سماجی ساخت ٹھیک نہیں ہوتی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ سماجی ساخت احتساب سے درست ہوتی ہے۔ جب ملزموں کو پکڑا نہیں جاتا اور قانون حرکت میں نہیں آتا یہ واقعات ہوتے رہیں گے۔ مغرب میں آج بھی نہ صرف جنسی جرائم بلکہ ہراساں کرنے کی بھی سخت سزائیں ہیں۔ فوری انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔ گداگری اور این جی اوز کے لئے قوانین بنائے گئے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ‘ مقننہ‘ انتظامیہ اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ اگر اس میں ہم آہنگی نہ ہو تو ملک کا کچھ نہیں بنے گا ہم تباہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی زبان ہمارے معاشرے کی عکاسی کر رہی ہے۔ یہ انحطاط کی نشانیاں ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More