The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

قومی اسمبلی میں موٹروے گینگ ریپ واقعہ پر بحث‘اپوزیشن کی حکومت پر کڑی تنقید … جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں … مزید

13

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 ستمبر ۔2020ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی تجویز پر معمول کی کارروائی معطل کرکے لاہور-سیالکوٹ موٹروے گینگ ریپ کیس پر بحث کا فیصلہ کیا گیا جہاں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے کے بعد وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی شریک ہیں اور حالیہ بارشوں،ر سیلاب، دہشت گردی کے واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی. اسپیکر نے لاہور-سیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر بحث کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے ماتھے پر بدنما داغ ہے اور اس پر وقفہ سوالات کے بعد بحث شروع کی جائے گا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ پیپلزپارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ دیگر کارروائی معطل کر کے لاہور واقعے پر بات کی جائے. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے سے سب کے سرشرم سے جھک گئے تاہم مقام شکر ہے کہ آج وہ ملزم گرفتار ہوا انہو ں نے کہاکہ ایسے خوف ناک اور دل کو دہلا دینے والے واقعات اور اس روش کو کیسے روکا جائے یہ اہم سوال ہے، مگر شومئی قسمت کہ اس سانحے نے پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت وقت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی اس موٹر وے کے اوپر کس کا کنٹرول ہے. شہباز شریف نے کہا کہ قوم کی ایک لاچار بیٹی کے اوپر ظلم ہوچکا تھا مگر حکومت کے ایوانوں اور ٹی وی کی اسکرینوں میں یہ بحث چل رہی تھی کہ یہ پنجاب حکومت کی کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اس طرح کے بیانات چل رہے تھے انہوں نے کہا کہ مجرم کو گرفتار کرنے کے لیے تمام توانائی صرف کرنے کے بجائے پولیس افسر نے کہا کہ یہ رات کو کیوں نکلیں یہ کہے کہ پیٹرول نہیں تھا تو چیک کیوں نہیں کیا اور رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرح کی بات سوچ بھی نہیں سکتا. انہوں نے کہا کہ ظلم رسیدہ بچی پر دست شفقت رکھنے کے بجائے پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس پر پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے اورجنہوں نے اس کو لگوایا وہ سینہ تان کر اس کے ساتھ کھڑے تھے کہ ہم نے اس کو لگوایا جبکہ اس افسر سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹ کہ رہی تھی یہ بندہ کرپٹ ہے اور اس لائق نہیں کہ کوئی اہم ذمہ داری دی جائے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ اس کو اہم مقام پر لگایا گیا. سی سی پی او لاہور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مکافات عمل ہے کہ اس کی تعیناتی کے فوری بعد بدقسمت واقعہ سامنے آیا اور اس کا پول کھل گیا شہباز شریف نے کہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ واقعہ پیش آیا تو پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قصور جا کر اس معاملے کو بدترین سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اس کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا اور پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش تھی کہ اس کو خراب کرنے کی کوشش کی. انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر ہم نے کوئی سیاست نہیں کیا اور بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اس بیٹی پر ظلم کو اپنا ظلم جانا قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سوچنا ہوگا کہ روز اس طرح کے واقعات کیوں ہوتے ہیں، قصور میں زینب کے واقعے کے چند دنوں بعد خیبرپختونخوا میں بھی ایک بچی کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اور لاہور کی فرانزک لیبارٹری کی مدد سے ملزم پکڑے گئے تھے انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان گلہ پھاڑ پھاڑ کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہے تھے، اس واقعے پر مکمل غائب اور خاموش ہیں، ایک لفظ تک نہیں کہا اور وزیراعظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں نے ملزم کو بھاگنے کا موقع دینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑ تھی لیکن اللہ کا شکر ہے آج کو وہ گرفتار ہو گیا ہے، حکومت کی غفلت کا اس طرح کا مظاہرہ بہت کم دیکھا گیا ہے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پولیس کی تعیناتی میں تاخیر پر انہوں نے کہا کہ جب آئی جی پنجاب نے جولائی میں حکومت سے کہا تھا کہ یہاں پر پولیس تعینات کی جائے تو پھر اس میں تاخیر کیوں ہوئی اور وقت کیوں ضائع کیا گیا، یہ مجرمانہ غفلت تھی اور آئی جی کے خط پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ اڑھائی سال ہونے کو ہیں ہر معاملے پر غفلت بڑھتی جارہی ہے، چاہے مہنگائی کو ختم کرنا ہو یا غربت، بے روزگاری کو ختم کرنا ہو حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اسی طرح انتظامی معاملات پر بھی یہ حکومت ناکام ہے. شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی انکوائری کی جائے اور ایسے دلخراش واقعات کا تدارک کرنا اور روکنا ہے تو انصاف اور میرٹ کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے اپوزیشن لیڈر نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہاﺅس کمیٹی بنائی جائے کہ موٹروے واقعے پر سیکیورٹی پولیس کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہوئی اور ایسا پولیس افسر جو بدنام زمانہ تھا اس کو کیوں تعینات کیا گیا اور طلب کرکے پوچھاجائے کہ اس وقت متنازع بیان کیوں دیا شہباز شریف نے کراچی میں بچی کے ریپ کے بعد قتل کے واقعے کی مذمت کی اورکہا کہ اس واقعے پرملزم کی گرفتاری سے متعلق کیا پیش رفت ہوئی ہے اس پر بتایا جائے. قبل ازیں وقفہ سوالات پر دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں اور وزارت آبی وسائل نے تحریری جواب دیا وزارت آبی وسائل نے کہا کہ بھاشا ڈیم پر سابق حکومتوں نے 86 ارب 68 کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ حکومت نے اب تک 64 ارب روپے خرچ کیے ہیں بیان کے مطابق موجودہ حکومت نے اراضی کے حصول کے لیے 20 ارب اور ڈیم کی تعمیر پر 43 ارب 80کروڑ روپے خرچ کیے اور رواں مالی سال میں ڈیم کی تعمیر کے لیے 16 ارب، اراضی اور آباد کاری کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں. وزارت آبی وسائل نے کہاکہ چیف جسٹس ڈیم فنڈ میں 12 ارب 63 کروڑ روپے جمع ہیں، فنڈ میں سے واپڈا نے آج تک کوئی رقم وصول نہیں کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ڈیم کے لیے 90 فیصد اراضی حاصل کر لی گئی ہے اور تعمیر کا کام 7 اگست 2020 سے شروع ہو چکا ہے وزارت آبی وسائل نے اپنے تحریری جواب میں گزشتہ دس سال کے دوران سیلاب سے بچاﺅ کے منصوبوں پر اخراجات کی تفصیل بھی قومی اسمبلی میں پیش کی، جس کے مطابق 2010 سے 2020 تک سیلاب سے بچاﺅ کے منصوبوں کے لیے 7ارب 52 کروڑ روپے مختص کیے گئے رپورٹ میں کہا گیا کہ دس سال کے دوران 5 ارب 58 کروڑر روپے کے فنڈز جاری ہو سکے، جن میں پنجاب میں 2 ارب 7 کروڑ، سندھ میں 1ارب 78 کروڑ روپے، کے پی میں 60 کروڑ 82لاکھ روپے، بلوچستان میں 46 کروڑ 62 لاکھ روپے، گلگت بلتستان میں 11کروڑ 85 لاکھ، سابق فاٹا میں 30 کروڑ 99لاکھ روپے اور آزاد کشمیر میں سیلاب سے بچاو¿ کے منصوبوں پر 22 کروڑ 61 لاکھ روپے خرچ کیے گئے. قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مذہبی امور نے بھی تحریری جواب جمع کروایا، جس میں کہا گیا کہ حج اسکیم 2020 کے تحت جمع کرائی گئی رقوم پر حکومت نے کوئی سود وصول نہیں کیا، تمام رقوم براہ راست بینکوں میں جمع کرائی گئی تھیں. وزارت مذہبی امور نے کہا کہ یہ رقوم بینکوں کی طرف سے شرعی نفع بخش کھاتوں میں رکھی گئی تھیں اور اس کے تحت ان رقوم پر 49 کروڑ 52 لاکھ روپے منافع حاصل ہواانہوں نے کہا کہ حاصل شدہ رقم پل گرمز ویلفئر فنڈ میں منتقل کر دی جاتی ہے، یہ رقم حجاج کی تربیت، حج مواد کی اشاعت اور حج آگاہی مہم پر خرچ ہوتی یے اور ویکسین و ادویات اور آئی ٹی کے سامان کی خریداری بھی اسی رقم سے ہوتی ہے. بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں ڈائریکٹوریٹ آف حج اور ڈائریکٹوریٹ آف حج جدہ کی آپریشنل لاگت بھی اسی رقم سے پوری ہوتی ہے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وقفہ سوالات میں کہا کہ ہیٹائیٹس کے مفت علاج کا سلسلہ ہمارے دور میں پنجاب حکومت نے شروع کیا تھا، پی کے ایل آئی کی چھتری تلے پنجاب کے ہر ضلع میں ہیپاٹائیٹس کے تدارک کے فلٹر کلینکس قائم کیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان فلٹرز کلینکس پر مریضوں کوٹیسٹوں اور ادویات کی فری سہولت میسر تھی لیکن موجودہ حکومت کے دور میں اس منصوبے کو بند کردیا گیا ہے.

شہباز شریف نے کہا کہ لاکھوں لوگ ہیپاٹائیٹس جیسے موذی مرض کے مفت علاج کی سہولت کا فائدہ اٹھا رہے تھے مگر اب ان کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا تھا جو اب بند کردیا گیا ہے، پنجاب حکومت سے اس منصوبے کو بند کرنے کی وجوہات اور معلومات لے کر ایوان کو آگاہ کروں گی.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More