The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

فرقہ واریت کی روک تھام کے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے … ملک فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے:شہریار آفریدی

11

اسلام آباد(اردو پوائنٹ- اخبارتازہ ترین 15ستمبر2020ء) وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانےکا کہا میڈیا ٹاک میں انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانےکی کوشش ہورہی ہے۔ سوشل میڈیاکے ذریعےاس ملک میں کھیل کھیلاجارہا ہے۔ سن 1253 میں ہلاکوخان نے بغداد میں چڑھائی کی. ہلاکوخان نے 2 لاکھ فوج کے ساتھ بغداد کا رخ کیا تھا. ہلاکوخان نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجائی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کاونٹر ٹیراریزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے 218 افراد گرفتار کرلیے تھے۔

(جاری ہے)

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتارملزمان کیخلاف مقدمات بھی درج کرلیے گئے تھے جبکہ مذہبی منافرت پھیلانے والی 4 ہزار سے زائد سائٹس بھی بلاک کردی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا تھا۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے رابطہ بھی کیا تھا۔ پنجاب حکومت نے وفاق سے سائبر ایکٹ میں صوبائی حکومت کو اختیار دینے کے لیے  ترامیم کی درخواست کی تھی۔وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ راجہ بشارت نے کہا تھا کہ محرم الحرام میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے سےمتعلق 203 شکایات موصول ہوئیں۔پنجاب کے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ایڈہاک بنیادوں پر ایسے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو صرف محرم میں کارروائی کرنے کی اجازت دی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ قوانین میں تبدیلی کے لیے پرائیویٹ اراکین بھی بل لے کر آئے تو حمایت کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More