The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

غ* ’’تحریک دفاع صحابہؓ ایکشن کمیٹی‘‘ کے زیر اہتمام عظیم الشان احتجاجی ریلی … “شرکائ نے محرم الحرام کی مجالس اور جلوسوں میں مبینہ طور پر ہونے والی صحابہؓ کرام کی گستاخی … مزید

9

8کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 13 ستمبر2020ء) اہل حدیث جماعتوں اور اداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’تحریک دفاع صحابہؓ ایکشن کمیٹی‘‘ کے زیر اہتمام چوک اہل حدیث کورٹ روڈ تا پریس کلب ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی منعقد ہوئی، شرکائ نے محرم الحرام کی مجالس اور جلوسوں میں مبینہ طور پر ہونے والی صحابہؓ کرام کی گستاخی کے خلاف حکومت اور اداروں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ریلی سے مفتی،محمد یوسف قصوری، مولانا محمد سلفی، ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی، مولانا ضیاء الرحمن مدنی، حکیم ناصر منجا کوٹی، مولانا عبد الحنان سامرودی،JUI کے قاری عثمان، مولانا داؤد شاکر، مولانا ابراہیم طارق، قاری خلیل الرحمن جاوید، مولانا ضیاء الحق بھٹی، محمد اشرف قریشی، مولانا ابراہیم جونا گڑھی، مولانا شریف حصاروی، مولانا انس مدنی، مولانا عبد الوکیل ناصر، ڈاکٹر فیض الابرار، شیخ ارشد علی، مولانا نصیب شاہ سلفی، مولانا محب اللہ، ایم مزمل صدیقی،، ڈاکٹر عامر محمدی، سید عامر نجیب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے صحابہؓ کرام کی شان، عظمت اور رفعت بیان کرتے ہوئے انہیں روشنی کا مینار اور امت کا محسن قرار دیا، انہوں نے کہا کہ صحابہ ؓ کرام نے اللہ کے نبی سے دین سیکھا اس پر عمل کیا اور دیانتداری کے ساتھ امت کے اگلے لوگوں تک منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحابہ ؓ کرام کی عظمت کے دلائل قرآن کی آیات، نبی کریم ؐ کی احادیث میں ہیں، کسی بھی صحابی پر انگلی اٹھانا اللہ اور اس کے رسول ؐ کے فرامین پر سوال اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلست والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ ؓ ایمان کا معیار اور عادل ہیں۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر مفتی یوسف قصوری نے کہا کہ آواز خلق کو نقار خدا سمجھا جائے کراچی میں تمام سنی مکاتب فکر نے باری باری کثیر تعداد میں دفاع صحابہ ؓ کے لئے سڑکوں پر نکل کر یہ پیغام دے دیا کہ وہ پاکستان کی فضاؤں کو صحابہؓ کرام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں سے آلودہ ہونے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام سے شکایت نہیں ہمیں شکایت ان مذہبی پیشواؤں سے ہے جو عوام کے دلوں میں نفرت اور تعصبات کا زہر اتار کر انہیں معاشرے کے لئے ان فٹ کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مذہبی رسومات کی آڑ میں سیاست قوموں کے لئے مہلک ہوتا ہے، فرقہ وارانہ رسومات کو عبادت کا درجہ دیا جا رہا ہے اگر واقعی یہ رسومات عبادت ہیں تو انہیں عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے۔ مفتی یوسف قصوری نے کہا کہ دس محرم جیسے واقعات کے سدباب کے لئے ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بنیاد اسلام بل کی طرز پر قانون سازی کی جائے، انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والا بنیاد اسلام بل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ مفتی یوسف قصوری نے کہا کہ ہم تمام ریاستی اداروں کو احترم کرتے ہیں اور دفاع وطن کے لئے ان کی عظیم قربانیوں کے معترف ہیں ہمیں ان پر اعتماد ہے ان سے اپیل کرتے ہیں کہ فرقہ واریت کے کیس میں اصل مجرموں پر ہاتھ ڈالیں اور اس مسئلے کا پائیدار حل نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ رد عمل کو فرقہ واریت قرار دینے کی روش ترک کی جائے، حکومت اور ریاستی ادارے اہلسنت مکاتب فکر کا مقدمہ سمجھیں ہم کسی بھی فرقے کو جینے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہتے نہ ہی بحیثیت مجموعی کسی فرقے کے خلاف ہیں ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اور ریاستی ادارے فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے سہولت کار نہ بنیں بلکہ صرف دین اسلام کے وہ مسلمات جن پر کسی مکتبہ فکر کا اختلاف نہیں انہی کی سرپرستی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرقے کو قانون سے بالا تر ہو کر عوام پر مسلط ہونے کا موقع دینا فرقہ واریت اور انتہا پسندی کا سبب بنتا ہے، مفتی یوسف قصوری نے کہا کہ دفاع صحابہ ? اہل حدیث جماعتوں کا مستقل ایجنڈہ ہے اگر اس ضمن میں مجرمو ں کو قرار واقعی سزا دلوانے میں ریاست نے کردار ادا نہ کیا تو ہم بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More