The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںلوگوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھائے جارہے ہیں، رپورٹ

18

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی بربریت عروج پر ہے اورکشمیریوںپر ناقابل بیان مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں فوجی کارروائیوں میں اضافے کے تناظر میں جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت پرتشدد کارروائیوں کو منظم اور ادارہ جاتی انداز میں استعمال کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ سال 5 اگست سے کشمیریوں کے خلاف قتل وغارت ، گمشدگیوں، تشدد اور گرفتاریوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔بھارتی فورسز کے مظالم کے شکار افراد کے انٹرویو زکی بنیاد پر مرتب کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں ہر دوسرے روز نئے نئے سانحات اور المناک واقعات کی کہانیان جنم لے رہی ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی فورسزکشمیریوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کو تباہ، گھروں کو مسمار اور معاشی طور پر کمزور کرنے کے لئے ان کا گھریلوسامان لوٹ رہی ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ میں روزکشمیریوں کے خلاف درندگی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ رپورٹ میں کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹوں کا حوالہ دیا گیا جن میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز علاقے میںبڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ 1989 ء سے لے کر اب تک 95ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیاگیاجس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت نے تمام حدیں پارکرلی ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا کہ بی جے پی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت جموںوکشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈا استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے ہزاروں کشمیریوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلاگیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے فسطائی ہندو حکمران مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے غیر مقامی لوگوں کو علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کررہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More