The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

عدالت عالیہ کے تمام تر احکامات کھوہ کھاتے ،پرائیویٹ اسکول مالکان نے والدین کو ذہنی مریض بنادیا

12

اتوار اکتوبر
14:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) عدالت عالیہ کے تمام تر احکامات کھوہ کھاتے ،پرائیویٹ اسکول مالکان نے والدینوں کو ذہنی مریض بنادیا،فیسوں کے علاوہ والدین نے جن بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کیا تھا اُن کو مائیگریشن فارم پر دستخط بھاری رقم لینے کے بعد کرکے دیے جاتے ہیں جبکہ والدین پہلے ہی بھاری فیسوں کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں ،سیکرٹری تعلیم ،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزادکشمیرنوٹس لیں ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق دارلحکومت مظفرآباد میں پرائیویٹ اسکول مالکان نے پہلے ہی فیسوں اور مختلف فنڈز کی آڑ میں والدینوں کو کنگال کر چھوڑا ہے وہاں بند اسکولوں کے باوجود والدین سے فیسوں کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے جبکہ اِن اسکولوں میں اساتذہ کو تین سے چار ہزار روپے ماہوار تنخواہ دی جاتی تھی ،وہاں طلبا طالبات سے ماہوار بھاری فیسیں وصول کرکے اس وقت دارلحکومت مظفرآباد میں ایک پرائیویٹ اسکول چار سے پانچ لاکھ روپے ماہوار بچت کما رہا ہے مگر اُس کے باوجود والدینوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ ختم نہ ہوا،نامی گرامی اسکولوں کے علاوہ پرائیویٹ اسکول کے مالکان نے والدین کو بلیک میل کرنے کا عجیب سلسلہ شروع کررکھا ہے،اگر بچے سرکاری سکولوں میں وزیر تعلیم کی خواہشات کے مطابق داخل کروائیں تو اُن کے مائیگریشن فارم پر وہ سائن نہیںکرتے،اُن کی ڈیمانڈ ہے،مائیگریشن فارم پر سائن کرنے کے دس سے 20ہزار روپے جبکہ چھوٹی کلاسز کے سرٹیفکیٹ دینے کیلئے 3سے 4ہزار روپے جمع کروائیں پھر اُن پر دستخط کیاجاتا ہے،اِس بارے میں عدالت عالیہ کی جانب سے فیس نہ لینے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا مگر سیکرٹری تعلیم اور ضلعی انتظامیہ عملدرآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے والدین زہنی طور پر مریض بن گئے ہیں ،اُنہوں نے چیف سیکرٹری آزادکشمیر،سیکرٹری تعلیم اور ڈپٹی کمشنر مظفرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ والدین کو ذہنی پریشانی سے بچانے کیلئے پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف ایکشن لیا جائے بصورت دیگر عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More