The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

عالمی مسائل کا حل مل جل کر نکالا جاسکتا ہے،پروفیسرڈاکٹر اطہر محبوب … کم مائیگی کا ادراک ہی بہتری لانے کا سبب بنتا ہے،چانسلر جاوید انوار،سرسید یونیورسٹی

18

کم مائیگی کا ادراک ہی بہتری لانے کا سبب بنتا ہے،چانسلر جاوید انوار،سرسید یونیورسٹی

پیر ستمبر
18:47

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا اور عالمی تبدیلی کے حوالے سے فکر انگیز گفتگو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا کہ بحران سے بچنے اور اس سے نمٹنے کے لیے نئے طریقے سے سوچنا ہوگا۔دنیا اب بدل چکی ہے۔ہمیں نئے تقاضوں کو سمجھ کر اس کے مطابق چلنا ہے۔ ٹیم ورک بہترین نتائج دیتا ہے۔عالمی مسائل کا حل مل جل کر نکالا جاسکتا ہے۔کسی ایک مضمون میں مسئلے کا مکمل حل موجود نہیں ہے۔اکیلے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اچھا لیڈر وہ ہے جو اپنے عمل سے لوگوں کو اس طرح متاثر کرے کہ ان میں اپنے ملک و قوم کے لیے کچھ کردکھانے کا جذبہ پیدا ہو۔

(جاری ہے)

عمل سے زندگی بنتی ہے۔آپ کا عمل آپ کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔دنیا میں اب کسی بھی ایک جگہ کا حادثہ پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے جیسا کہ ہم نے کووڈ میں دیکھا۔معلومات کو پرکھنے کے بعد ہی نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نے عالمی وبا کرونا کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوراًً ایکشن لیتے ہوئے آن لائن لیکچرز اور ورچول کلاسوں کا آغاز کیا۔اس ضمن میں اساتذہ کو باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تاکہ وہ اپنے آن لائن لیکچرز صحیح اور موثر انداز میں دے سکیں۔۔جامعہ کو منظم اور جامع طریقے سے چلانے کے لیے کئی پالیسیاں بنائی جاچکی ہیں۔کم مائیگی کا ادراک ہی بہتری لانے کا سبب بنتا ہے۔سرسید یونیورسٹی ایک نظریاتی یونیورسٹی ہے اور اسکے ساتھ سرسید احمد خان کا نام جُڑا ہے۔ان کے مشن کو جاری رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ عصری تقاضوں کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلی لانی ہوگی ورنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ترقی کی بنیاد جدت اور نئے خیالات ہیں۔آج کا دور Artificial Intelligenceکا ہے۔جامعات کی ذمہ داری ہے کہ طلباء کی رہنمائی کریں کہ وہ کیسے نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ان کی تربیت بہت ضروری ہے۔ہمیں تنہائی کے خول سے باہر نکلنا ہوگا اور دیگر لوگوں اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تبھی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔مشترکہ کوششیں ہی امید افزا ثابت ہوں گی۔قبل ازیں سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار سید سرفراز علی نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا اور ان کا تعارفی خاکہ پیش کیا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More