The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

صدر آزاد کشمیرکا اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے کا خیرمقدم … اقوام متحدہ اور اس … مزید

8

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشعل بیکلے کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوج اور پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال، پیلٹ گنوں کے استعمال سے پرامن مظاہرین کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کرنے اور ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی لا کر ریاست کی مسلم اکثریت کی اقلیت میں تبدیل کرنے پر تشویش کا اظہار کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام، نسل کشی اور کشمیریوں کی زمین چھیننے کے اقدامات روکنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کے 45ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی کے کشمیر کے بارے میں ریمارکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مشعل بیکلے نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ اصل صورتحال کی محض ایک جھلک ہے جبکہ حالات اس سے کہیں زیادہ گھمبیر اور ناقابل بیان ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نہ صرف انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں کر رہی ہے بلکہ یہ کشمیریوں کی نسل کشی، انسانیت کے خلاف بد ترین جرائم اور جنگی جرائم میں بھی ملوث ہے جس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے ۔ صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کر کے مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری اور غیر قانونی طور پر بھارت کے شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کرکے ریاست کی مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے واقعات بند کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ مشعل بیکلے سے انسانی حقوق کمیشن کی 2018ء کی رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے صدر آزا دکشمیرسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی سر براہ اس سلسلہ میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو مساوی قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں لوگ آزاد ہیں، انہیں تمام بنیادی شہری حقوق حاصل ہیں ۔ آزاد کشمیر کے شہروں اور قصبوں میں فوجی گشت کرتے ہیں اور نہ ہی شہریوں کو روک کر اُن کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے ۔ آزاد کشمیر کے شہری علاقوں میں فوجی چوکیاں اور نہ ہی خار دار تاروں سے رہائشی علاقوں کو سیل کیا گیا ہے جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت ہے، کشمیریوں سے اُن کی زمین چھین کر اُنہیں اپنی ہی دھرتی پر بے زمین کیا جا رہا ہے اور اُن کے لئے عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ آزاد کشمیر میں شہریوں کو تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی سہوتیں میسر نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں اکثر شہروں میں انٹرنیٹ کی بہترین سہولتیں موجود ہیں جبکہ آزاد ریاست کے تمام علاقوں میں یہ سہولتیں مہیا کرنے کے لئے انفراسٹرکچر بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے اُس سے عالمی برادری پوری طرح آگاہ ہے اور انشاء الله وہ دن دور نہیں جب بھارت کو انسانیت کے خلاف اپنے ایک ایک جرم کا حساب دینا ہو گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More