The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

صحت اور کاروباری شعبوں سے وابستہ ورکرز کو بھی لیبر قوانین کے مطابق تحفظ اور مراعات دی جائیں،شوکت یوسفزئی … تیل گیس اور معدنیات جیسے اہم شعبوں سے وابستہ ورکرز بھی حکومتی … مزید

7

تیل گیس اور معدنیات جیسے اہم شعبوں سے وابستہ ورکرز بھی حکومتی سرپرستی اور توجہ کے مستحق ہیں،،وزیر محنت شوکت خیبرپختونخوا

بدھ ستمبر
20:07

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) خیبرپختونخوا کے وزیر محنت شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ صنعتی مزدوروں کے علاوہ تیل۔گیس۔معدنیات۔ تعلیم۔صحت اور کاروباری شعبوں سے وابستہ ورکرز کو بھی لیبر قوانین کے مطابق تحفظ اور مراعات دی جائیں۔ اس ضمن میں لیبر ڈیپارٹمنٹ ان شعبوں کے ورکرز کو سوشل سکیورٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ کہ تیل۔گیس اور معدنیات جیسے اہم شعبوں سے وابستہ ورکرز بھی حکومتی سرپرستی اور توجہ کے مستحق ہیں۔ڈیتھ اور میرج گرانٹس ورکرز کے بچوں کے لیے سکالرشپس۔مفت تعلیم اور صحت جیسی سہولیات ان شعبوں سے منسلک ورکرز کے لیے بھی ہونی چاہئیں۔محکمہ محنت کے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ لیبر قوانین کا اطلاق ہر اس شعبے پر ہوتا ہے جس میں مزدور کام کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

رجسٹریشن جیسے بنیادی کام سے ہر شعبے کو گزر نا ہوگا۔ تیل گیس اور مائنز شعبے سے منسلک اداروں کو بھی محکمہ محنت کے ساتھ رجسٹر کیا جائے تاکہ ورکرز کے بنیادی حقوق کی پاسداری یقینی بنائی جاسکے۔صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مہمند مائینز کے دلخراش سانحے کے بعد اس شعبے سے منسلک ورکرز کے مسائل کو باریک بینی سے جاننے کا موقع ملا،اس شعبے سے منسلک ورکرز مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں اور رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بنیادی حقوق پامال ہورہے ہیں۔محکمہ لیبر کے حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا روشن مستقبل تیل گیس اور مائنز جیسے اہم شعبوں سے وابستہ ہے، اس شعبے سے منسلک ورکرز اگر مشکل حالات میں کام کریں گے تو صوبہ ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکتا جس کا خواب ہم دیکھ رہے ہیں۔محکمہ محنت کو مستعدی سے کام کرتے ہوئے ورکرز کے لیے سہولیات بڑھانی ہونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکرز صوبے کی ترقی کیلئے اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں، ان کے بال بچوں کی کفالت اور بہتر زندگی محکمہ محنت کا بنیادی کام ہے۔اجلاس میں شوکت یوسفزئی نے محکمہ محنت پر زور دیا کہ وہ اپنے اخراجات مزید کم کرے اور ورکرز کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کے لیے نئے منصوبے متعارف کرے۔ وزیر محنت کا کہنا تھا کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کا اپنا مالی انتظام نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی جو مستقبل میں صوبے کے خزانے پر بوجھ ہوں۔ورکنگ فوکس گرائمر سکول کے بجٹ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اسکولوں کا خرچہ زیادہ ہے، اس کے لیے کسی نئے بزنس ماڈل کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More