The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

شیخوپورہ،صوبائی حکومت کا مراسلہ جاری ہونے کے باوجود سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر اپنی تعیناتیوں کے مقام پر ڈیوٹی انجام دینے سے قاصر … مختلف سرکاری دفاتر میں غیر قانونی … مزید

5

مختلف سرکاری دفاتر میں غیر قانونی طور پر براجمان سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر ز نے حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے
بعض اعلیٰ سرکاری افسران کی پشت پناہی حاصل ہونے کا انکشاف

منگل ستمبر
19:43

شیخوپورہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 15 ستمبر2020ء) صوبائی حکومت کا مراسلہ جاری ہونے کے باوجود سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر اپنی تعیناتیوں کے مقام پر ڈیوٹی انجام دینے سے قاصر، مختلف سرکاری دفاتر میں غیر قانونی طور پر براجمان سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر ز نے حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے، بعض اعلیٰ سرکاری افسران کی پشت پناہی حاصل ہونے کا انکشاف، ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کے دور اقتدار میں چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کے دوران ایم اے پاس افراد کیلئے بطور سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپر وائزر کی بھرتیاں کی گئیں تھیں جن کا کام اپنی تعیناتی کے بی ایچ یو سنٹر میں خدمات انجام دینا تھا مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان سپروائزرز نے مختلف بااختیار ضلعی افسران کی آشیر باد اور ملی بھگت سے اپنی ڈیوٹیاں مختلف سرکاری محکموں میں لگوالیں حالانکہ انہیں انکی تعیناتی کے بی ایچ یو سے تبدیل کرکے کسی دیگر سرکاری محکمہ میں ٹرانسفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس کے باوجود محکمہ صحت کے بعض دفاتر سمیت مختلف محکموں میں اکثریتی تعدادکام کررہی ہے مگر انہیں تنخواہیں بدستور بی ایچ یوز ہی کے تحت مل رہی ہیں البتہ جن محکموں میں یہ کام کررہے ہیں وہاں انہیں حاصل ہونے والی اوپر کی کمائی اسقدر جاذب نظر ہے کہ یہ اپنی حقیقی تعیناتیوں پرکام کرنے قاصر ہیں اور صوبائی حکومت کے مراسلہ کے بعد انہوں نے واپس جانے کی بجائے موجودہ دفاتر میں کام کرتے رہنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیئے ہیں دوسری طرف ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کی طرف سے بھی اس حوالے سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا نہ انہوں نے صوبائی حکومت کے احکامات پر عملدر آمد کی خاطر فہرستیں طلب کرکے ان سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزرز کی واپس بی ایچ یوز میں تعیناتیاں یقینی بنانے کے حوالے سے کوئی سخت ہدایت جاری کی ہے جس کے باعث ان ملازمین کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی حالانکہ انکے بی ایچ یوز یں ڈیوٹی نہ کرنے کے باعث ان علاج گاہوں کا حال نہایت ناگفتہ بہ ہوچکا ہے ان کی دیکھا دیکھی بی ایچ یوز کے دیگر ملازمین بھی ڈیوٹی من مرضی سے انجام دے رہے ہیں جبکہ مریضوں کو علاج معالجہ کیلئے مقامی سطح پر سہولیات حاصل نہ ہونے کے سبب دور دراز کی سرکاری علاج گاہوں کا رخ کرنا پڑرہا ہے جبکہ بعض لوگ مہنگے پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس سے علاج کروانے پر مجبور ہیں، علا وہ ازیں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کسی طرح کا موقف دینے اور صوبائی حکومت کے مذکورہ احکامات پر عملدر آمد کی صورتحال سے آگاہ کرنے سے قاصر ہیں جبکہ سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر ز نے بھی بنیادی ہیلتھ یونٹس میں کام کے آغاز کی تصدیق نہ کی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More