The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

شہر میں گرنے والی عمارتیں غیر قانونی تھیں اور ان غیر قانونی تجاوزات میں کے ایم سی اور ڈی ایم سیز بھی ملوث رہی ہیں، ناصر شاہ … کراچی کا نفرااسٹرکچر ہمیں ابھی بہتر کرنا ہے،اگر … مزید

10

ہالا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 13 ستمبر2020ء) سندھ کے وزیراطلاعات وبلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ شہر میں گرنے والی عمارتیں غیر قانونی تھیں اور ان غیر قانونی تجاوزات میں کے ایم سی اور ڈی ایم سیز بھی ملوث رہی ہیں، کراچی کا انفراسٹرکچر ہمیں ابھی بہتر کرنا ہے۔مخدوم ہائوس میں مخدوم جمیل الزمان سے ان کے بھائی مخدوم عقیل الزمان کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص، شہید بینظیر آباد متاثر ہوئے، کراچی کا نفرااسٹرکچر ہمیں ابھی بہتر کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہمارا سسٹم خراب تھا تو ڈی ایچ اے، سی بی سی جن کا سسٹم اچھا ہوتا ہے تو انکا حشر تو ہم سے خراب تھا، جہاں تک کام کی بات ہے، سندھ حکومت ہی کررہی ہے، مشرف دور میں لوگوں کو نالوں پر الاٹمنٹ دی گئی، وزیر بلدیات جام خان دور میں گجر اور دیگر نالوں سے تجاوزات ہٹائیں تو اسٹے آگیا، جسٹس گلزار احمد کا شکریہ جن کے احکامات کے بعد اسٹے نہیں ملے گا۔

(جاری ہے)

وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقے میں محکمہ جنگلات کے زیر قبضہ زمین خالی کرائی۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں گرنے والی عمارتیں غیرقانونی بنی ہوئی ہیں،ایک بہت بڑا مافیا ہے جو اس میں ملوث ہے۔ پہلی بار بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 40 ملازمین برطرف کیے۔ناصر حسین شاہ نے کہاکہ غیر قانونی تجاوزات میں صرف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والے ملوث نہیں، کی ایم سی، ڈی ایم سیز بھی ملوث رہی ہیں۔1600 سے زائد غیرقانونی تعمیرات گرائی، مزید کارروائی کریں گے۔انہوں نے لاہور موٹروے پر خاتون سے زیادتی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ واقعے میںملوث ملزمان کو سخت سزا دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب، کے پی کے میں وفاق کی مرضی سے منٹوں، دنوں میں آئی جی کا تبادلہ ہوجاتا ہے۔وہاں مرضی کا آئی جی لگاتے ہیں۔سی سی پی اولاہورمتنازع ہوچکے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More