The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق طالبہ کی موت زیادہ خون بہہ جانے سے ہوئی … اریبہ کے سر کے پچھلے حصے میں گہری چوٹ لگی، طالبہ 12 منٹ تک جائے وقوعہ پر پڑی رہی لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ … مزید

9

کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) کراچی میں سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق طالبہ کی موت زیادہ خون بہہ جانے سے ہوئی، طالبہ کے سر کے پچھلے حصے میں گہری چوٹ لگی، طالبہ 12 منٹ تک جائے وقوعہ پر پڑی رہی لیکن کسی نے اٹھایا نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق کراچی کے نجی سکول میں نویں جماعت کی 15 سالہ طالبہ سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بچی سکول کیلئے سات بجے گھر سے روانہ ہوئیں۔ سکول کا فاصلہ زیادہ نہیں ہے، سکول وین میں صرف تین بچے سوار تھے۔ 7 بج کر پچاس منٹ پر حادثہ پیش آیا۔ جبکہ 8 بج کر دو منٹ پر سکول انتظامیہ بچی کو لے کر قریبی ہسپتال گئے۔ وہاں سے جب بچی کو عباسی شہید ہسپتال لے کر گئے تو ہسپتال نے اریبہ کے انتقال کی تصدیق کردی۔بچی کے سر کے پچھلے حصے پر لگی چوٹ موت کا باعث بنی۔

(جاری ہے)

کیونکہ چوٹ گہری تھی اور خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا۔

دوسری جانب وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے نجی سکول کی طالبہ کے سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے ڈی جی پرائیویٹ سکول منصوب صدیقی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔  ڈی جی پرائیویٹ سکول نے واقعے کی تحقیقات کی دو رکنی کمیٹی بنا دی ہے، وزیر تعلیم نے ہدایت کی کہ تحقیقات کی جائیں کہ سانحہ کیسے پیش آیا؟ اور سانحے کے فوری بعد سکول انتظامیہ نے بچی کو ہسپتال کیوں نہیں پہنچایا؟ تحقیقاتی کمیٹی کو مذکورہ سکول کی پرنسپل نے بتایا بچی ساڑھے 7 بجے سیڑھیوں سے گری اور اس کی اطلاع سکول کی آیا نہیں دی۔ جبکہ بچی اریبہ کے والد نے بتایا ہمیں 8 بجے سکول سے کال آئی کہ جس پر سکول گیا تو بچی بےہوشی کی حالت میں تھی۔ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اریبہ کو میں اور سکول ٹیچر لے کر قریبی ہسپتال پہچنے جہاں پر کہا گیا کہ آپ بڑے ہسپتال چلے جائیں، عباسی شہید ہسپتال پہنچے تو بچی کی موت ہوچکی تھی۔ واضح رہے پولیس نے سکول کے مالک آصف کو حراست میں لے لیا ہے۔ جس سے تفتیش کی جارہی ہے۔ بچی کے والدین گہرے صدمے میں ہیں۔ اس لئے پولیس ابھی ان سے سکول انتظامیہ کیخلاف کاروائی سے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہیں کررہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More