The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا سی سی پی او لاہور کی عدم حاضری پر اظہار برہمی … سی سی پی او کی عدم حاضری قابل قبول نہیں کمیٹی کاعمر شیخ کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کا … مزید

2

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 ستمبر ۔2020ء) سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے موٹر وے زیادتی کیس سے متعلق بریفبگ کے لیے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسرلاہور عمر شیخ کی کی عدم حاضری پر کمیٹی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے. سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا سینیٹر مصطفیٰ کھوکھر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا سی سی پی او آسمان سے اترے ہیں؟ .

(جاری ہے)

سی سی پی او کی عدم حاضری قابل قبول نہیں کمیٹی نے سی سی پی او لاہور کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کا فیصلہ کیا کمیٹی نے سی سی پی او کو طلب کرنے کا سمن جاری کردیاوزارت مواصلات نے کمیٹی کو بتایا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ موٹروے پر پیش نہیں آیا. آئی جی موٹرویز نے کمیٹی کو واقعے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خاتون نے رات کو 2 بجکر 1 منٹ پر کال کی آپریٹر عابد نے کال اٹھائی، جس پر خاتون نے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا آپریٹر نے خاتون کو بتایا کہ یہ ان کی حد نہیں. آپریٹر نے خاتون سے کہا کہ آپ رکیں میں متعلقہ حکام کو آگاہ کرتا ہوں آپریٹر نے خاتون سے بات کرنے کے بعد ایف ڈبلیو او کو اطلاع دی. خیال رہے کہ گزشتہ رو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وے زیادتی کیس سے متعلق کیس سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو طلب کر لیا تھا چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو 21 ستمبر کو طلب کیا ہے خاتون زیادتی کیس کی رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ زیادتی کے ایسے واقعات کے فیصلے 3 ماہ کے اندر ہونے چاہئیں. واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی موٹر وے زیادتی کیس سے متعلق کیس میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو21ستمبر کو طلب کر رکھا ہے‘چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو 21 ستمبر کو طلب کیا ہے خاتون زیادتی کیس کی رپورٹ بھی طلب کی ہے. پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ زیادتی کے ایسے واقعات کے فیصلے 3 ماہ کے اندر ہونے چاہئیں اس سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ ہمیں ریپ کیسز میں تفتیش کے لیے خواتین آفسران کو تربیت دینی ہوگی، کیونکہ خواتین ہی خواتین کا دکھ درد سمجھ سکتی ہیں. فواد چوہدری نے کہا کہ ایسے واقعات پے درپے ہورہے ہیں واقعات پر ایک مہینہ شور ہوتا ہے پھر بھول جاتے ہیں پاکستان میں ہر سال 5 ہزار ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں پنجاب میں 190 کیسز گینگ ریپ کے رپورٹ ہوئے. انہوں نے کہا کہ بے شمار لوگ یہ کیسز رجسٹر ہی نہیں کراتے ہیں لوگ اس لیے کیس رپورٹ نہیں کرتے کہ کہیں پولیس افسر یہ نہ پوچھ لیں کہ پیٹرول کیوں چیک نہیں کیا اس لیے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے کہ ججز کے در پر چکر لگاتے رہو،آخر میں تاریخ پر پیشی کے لیے بھی پیسے ختم ہوجاتے ہیں. پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہاتھا کہ موٹروے واقعہ پرہم سب کے دل افسردہ ہیں ہمارے ملک میں سزا اور جزا کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے متاثرہ شخص کو انصاف کے حصول میں قدم قدم پر مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More