The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس

5

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 17 ستمبر2020ء) ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤ س میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کے 27جولائی 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے ’’نیشنل کمیشن رائٹس آف چائلڈ‘‘ ترمیمی بل 2020، سینیٹر شیریں رحمن 27جولائی 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے گھریلو تشدد کی روک تھام کے بل 2020، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل ایند ہیلتھ سائنسز کے طالبعلموں کی طرف سے بھوک ہڑتال کے معاملے، سینیٹر پرویز رشید کے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے مسلم لیگ ن کے ورکزپر ایف آئی آر میں دہشت گردی کا چارج لگانے، چیف سیکرٹری بلوچستان سے شاہرگ نامی بچے سے زیادتی کے واقعہ، حالیہ موٹروے زیادتی کیس کے حوالے سے سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹروے اور سی سی پی او لاہور سے تفصیلی بریفنگ کے علاوہ معروف صحافی ابصار عالم کے خلاف کیس رجسٹر کرنے پر ڈی پی او جہلم سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی۔

(جاری ہے)

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کے 27جولائی 2020کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے ’’نیشنل کمیشن رائٹس آف چائلڈ‘‘ ترمیمی بل 2020 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ والدین یا گارڈین بچوں کو گاڑیوں اور گلیوں میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس حوالے سے سخت قانون ہے یہاں تک کہ بچوں کو پولیس ساتھ لے جاتی ہے تاکہ ان کی دیکھ بحال کر سکیں اگر والدین توجہ نہیں دے رہے مگر وزار ت انسانی حقوق نے اس بل پر اعتراض لگا کر واپس بھیجا ہے۔ڈی جی وزارت انسانی حقوق محمد حسن منگی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن بل میں بھی ایسی بہت سی چیزیں شامل ہیں اگر اٴْس میں کوئی سقم ہے تو ترمیم لائی جا سکتی ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کو سینیٹر فیصل جاوید کے ساتھ مل کر اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن بل میں ترمیم تجاویز کرنے کی ہدایت کر دی اور مزید جائزہ آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔ فنکشنل کمیٹی اجلاس میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل ایند ہیلتھ سائنسز کے طالبعلموں کی طرف سے بھوک ہڑتال کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا وائس چانسلر بولان یونیورسٹی نے کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیلف فنانس کے طالبعلموں نے بھوک ہڑتا ل کی تھی 15 فیصد سیٹیں سیلف فنانس کیلئے مخصوص ہیں جو ایچ ای سی کی پالیسی ہے تا کہ زیادہ آمدن آ سکے۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان تعلیمی لحاظ سے پہلے ہی پسماندہ ہے تعلیمی ادارے بہت کم ہیں صوبہ بلوچستان کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی ہے اس کے ملازمین اورطالبعلموں کے مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو کالج بنانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے اس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ کیبنٹ میں بھی اٹھایا گیا تھا۔فنگشنل کمیٹی کے اجلاس میں موٹروے زیادتی کے واقعے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین واراکین کمیٹی نے سی سی پی او لاہور کی کمیٹی اجلاس میں عد م شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ہم نے سی سی پی او لاہور کو دعوت دی تھی کیا سی سی پی او آسمان سے اترے ہیں اعلی حکام یہاں شریک ہیں اور سی سی پی او نہیں آئی سی سی پی او کی عدم حاضری قابل قبول نہیں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ سی سی پی او کی عدم حاضری سے کمیٹی کا استحقاق مجروع ہوا ہے فنکشنل کمیٹی نے سی سی پی او لاہور کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے اور سمن جاری کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خاتون نے 2بج کر ایک منٹ پر موٹروے ہیلپ لائن 130پرمدد کیلئے کال کی اور ڈیوٹی پر موجود اہلکارعابد نے فون اٹینڈ کیا اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ 4:27منٹ کی کانفرنس کال کی کمیٹی کو بتایا گیا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ موٹروے پر پیش نہیں آیابلکہ لاہور مشرقی بائی پاس پر پیش آیا تھا جو این ایچ اے کے انڈر آتا ہے۔سیکرٹری مواصلات نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایچ اے کے پاس 17ہزار کلومیٹر کی سڑکیں ہیں اور چار ہزار ایک سو بیس کلو میٹر پر پولیس تعینات ہے 8ہزار کلو میٹر پر کچھ نہیں ہے۔ موٹروے پولیس کے پاس گاڑیوں اور سٹاف کی کمی ہے۔ آئی جی موٹر وے پولیس نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ ذمہ داری صوبائی پولیس کی بنتی ہے۔جہاں موٹروے پولیس نہ ہو وہاں لوکل پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ڈی آئی جی پنجاب پولیس شہزاد ہ سلطان نے کمیٹی کو بتایا کہ ایسا واقعہ جہاں پر ہو وہاں کی مقامی پولیس اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔رات 2 بجکر47 منٹ پر ایک راہگیر نے اطلاع دی کہ ایک خاتون کو سٹرک پر گھسیٹا اور زدوکوب کیا جارہا ہے اور 2:53 پر دو ڈولفن پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ راہگیر آدھا گھنٹہ یہ تعین کرتا رہا کہ یہ کہیں فیملی جھگڑا ہے یا واردات ہو رہی ہے۔اطلاع ملنے کے چار منٹ کے اندر ڈولفن پولیس اہلکار پہنچ گئے تھے۔وومین ڈیمو کریٹ فرنٹ کی نمائندہ نے کمیٹی کہا کہ زیادتی کا کیس پہلا اور آخری نہیں ہے خواتین کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں نیشنل کرائسس کی صورتحال ہے۔ریاست پاکستان کی خواتین کیلئے پیغام دے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور اس کیلئے سی سی پی او کو فوری طور پر فارغ کیاجائے اور سینیٹ کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا کر انکوائری کی جائے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے خواتین سینیٹرز پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو حکومت کے اداروں پر ذمہ داری فکس کرے گی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مدد بھی حاصل کرے گی۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید کے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے مسلم لیگ ن کے ورکزپر ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ لگانے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بریفنگ لی گئی تھی تو یہ دفعہ نہیں لگائی گئی تھی اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہا کہ غلام حسین ورسسز اسٹیٹ کے کیس کو مد دنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے اور کمیٹی معاملے کا آئندہ اجلاس میں مزید جائزہ لے گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کارکنوں کے خلاف دہشتگردی کی شق شامل نہیں ہو سکتی۔کارکنان کے خلاف کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مد نظر رکھا جائے۔کمیٹی اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان سے شاہرگ نامی بچے سے زیادتی کے واقعہ پر بریفنگ حاصل کی گئی۔چیف سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ بچے سے معلومات لی ہیں اور اس نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے۔ اس کی دو انکوائریاں کرائی گئی تھیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ14 سال سے کم عمر بچوں سے کانوں میں مزدوری نہ کرائی جائے۔ یہ قانونی جرم ہے اور کان مالکان کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے جائیں۔ کمیٹی اجلاس میں نامور صحافی ابصار عالم کے خلاف مقدمہ اندراج کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ڈی پی او جہلم نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وکیل چوہدری نوید احمد کی درخواست پر ایف آر کا اندراج ہوا ہے۔مقدمہ درج کرلیتے ہیں تحقیقات میں دیکھا جاتا ہے کہ کون بے قصور ہے۔ایف آئی آر کا اندراج ابتدائی مراحل میں ہے۔جائزہ لیں گے کہ الیکٹرانک کرائم کی تحقیقات کرنا ہمارا اختیار ہے یا نہیں۔جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ اختیارات کو دیکھنے سے پہلے ئی ایف آئی آر کا اندراج کیسے ہوگیا ۔ ریاست کے خلاف جرم میں صرف ریاست ہی مدعی بن سکتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صحافی ابصار عالم کے خلاف مقدمہ غیر قانونی عمل ہے۔ایف آئی آر پر نظرثانی کی جائے۔ ایس ایچ او نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیرایف آئی آر درج کی ہے۔یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران میڈیا پرسنز کے حوالے سے بے شمار کیسز سامنے آرہے ہیں میر شکیل الرحمان، مطیع اللہ جان و دیگر کیسز بھی ہمارے سامنے ہیں اور مختلف ممالک سے ہمارے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ میڈیا کیلئے کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آواز کو دبا دیا گیا ہے۔بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقین بنانے کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھنا چاہئے۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ڈاکٹر مہر تاج روغانی،ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی، عائشہ رضا فاروق، کامران مائیکل،شاہین خالد بٹ، قر? العین مری، عثمان خان کاکڑ، کیشو بائی، پرویز رشید، مصدق مسعود ملک، رانا مقبول احمد، فیصل جاوید، رکن قومی اسمبلی مریم اورنگزیب،سیکرٹری مواصلات،ڈی جی وزارت انسانی حقوق، آئی جی موٹروے، چیئرمین این ایچ اے، چیئرپرسن این سی آر سی، ڈی آئی جی اپریشن موٹروے، ڈی آئی جی پنجاب پولیس، ایس پی پنجاب پولیس،ایس ایس پی اپریشن لاہور، ڈی پی او جہلم اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More