The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سینیٹر رضا ربانی نے زیادتی کے ملزمان کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی … ایسا کرنے سے پہلے آئین کا آرٹیکل 12 پڑھ لیں ، اس سے آپ نفرتوں کو مزید اجاگرکریں گے ، سینیٹ میں اظہار … مزید

1

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے زیادتی کے ملزمان کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھانسی کی سزا تو قانون میں موجود ہے، کہا جاتا ہے سرعام پھانسی دیں گے، ایسا کرنے سے پہلے آئین کا آرٹیکل 12 پڑھ لیں ، اس سے آپ نفرتوں کو مزید اجاگرکریں گے، سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارنےسے کیا تحاریک ختم ہوگئیں؟ ۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ خوشی سے کہا جار ہا ہے کہ اجتماعی زیادتی کے ملزم پکڑے گئے ہیں ، کراچی میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا ، یہ ایک نا ختم ہونے والی کہانی ہے ، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن اس ریاست میں بچیوں کی عزت محفوظ نہیں رہی ۔ واضح رہے کہ موٹر وے زیادتی کیس کے خلاف عوام کی طرف سے ناصرف واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے بلکہ مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلنے والی اس گندگی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے، عوام کی طرف سے یہ مطالبہ اس لیے بھی زور پکڑ رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جہاں ناصرف خواتین بلکہ معصوم بچوں اور ننھی کلیوں کو بھی درندہ صفت لوگ اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے رہے ہیں جن میں سے قصور کا واقعہ تو سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

ٹویٹر پر بننے والے مختلف ٹرینڈز میں عوام کے جذبات کی ایک جھلک ان پیغامات میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ اس ٹویٹ میں عادل نامی شہری کی طرف سے وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسانیت مر رہی ہے انسانی حقوق کی رکھوالی کرنے والے سو رہے ہیں ، جناب وزیراعظم صاحب برائے مہربانی یہ محترمہ شیریں مزاری اس وزارت کے اہل نہیں ہیں ، ان سے یہ وزارت واپس لی جائے ۔ ایک اور ٹویٹر صارف نے بھی شیریں مزاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے پوچھا ہے کہ ان کی طرف سے سرعام پھانسی دیے جانے کے بل کی مخالفت کیوں کی گئی ۔ ٹویٹر صارف نعیم ملک نے پوچھا ہے کہ اس قانون کی مخالفت کرنے والے صرف اس بات کا جواب دیں کہ اگر ان کے بچوں کے ساتھ ایسے ہی درندگی سے ریپ ہو تو پھر وہ کیا کریں گے؟؟ یہ معصوموں کے ساتھ ظلم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ تم لوگوں کی وجہ سے انہیں تحفظ مل رہا ہے ۔ وقاص احمد صافی نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے نظام عدل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ نوٹس ہو گیا اب مجرم پکڑے جائیں گے ، عدالت میں پیش ہوں گے ، پہلے عبوری ضمانت ہو گی پھر کیس چلتا رہے گا ، چند سال بعد کیس ختم لوگ بھول جائیں گے ، پھر کوئی اور زیادتی کا کیس آئے گا اس پر ہم چند دن آواز اٹھائیں گے پھر وہی نوٹس وہی عدالت وہی ضمانت اور یہ نظام چل سو چل ۔ ایک خاتون عمیرہ اعوان کا کہنا ہے کہ ہم خود کو یہاں محفوظ تصور نہیں کرتیں ، ہم ڈرگئے ہیں ہمیں بتایا گیا کہ ہم آزاد ہیں لیکن ہم نہیں ہیں ، وہ 2بچوں کی ماں تھی اس کے بچے بھی اس کےئ ساتھ تھے یہ کیسی آزادی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More