The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سینٹ میں اپوزیشن اراکین کاسی سی پی او لاہو رکے استعفیٰ کا مطالبہ … عوام سی سی پی او کی معافی قبو ل نہیں کرینگے ، ،وزراء سی سی پی او لاہور کی پشت پناہی کرتے رہے ،،ذمہ داروں … مزید

5

سلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) سینٹ میں اپوزیشن اراکین نے سی سی پی او لاہو رکے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام سی سی پی او کی معافی قبو ل نہیں کرینگے ، ،وزراء سی سی پی او لاہور کی پشت پناہی کرتے رہے ،،ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے جبکہ سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ باتیں کرنے کی بجائے قانون سازی کی جائے،سزائے موت کو ہلکا نہ لیں یہ تفریح نہیں،سی سی پی او کا بیان نامناسب ہے اس کی مذمت کرتا ہوں،سی سی پی او وہ آدمی ہے جو بک نہیں سکتا،عمر شیخ پیٹی بند بھائیوں کے خلاف بھی کھڑا ہوا ہے۔ منگل کو موٹر وے سانحہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر آصف کرمانی نے کہاکہ ہمیں سی سی پی او لاہور کا استعفیٰ چاہیے،۔ انہوںنے کہاکہ لوگ خیبر سے کراچی تک سی سی پی او لاہور کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لاہم حکومت خاموش ہے۔

(جاری ہے)

سینیٹر آصف کرمانی نے کہاکہ ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قابل پولیس افسر مقرر کیے جائیں۔

انہوںنے کہاکہ متعلقہ سی سی پی او کہتا ہے کہ یہ گھر سے کیوں نکلی اس سی سی پی پر لوگوں کو عدم اعتماد ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم بھی دو دن تک کچھ نہیں بولے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں سی سی پی او کی معافی قبول نہیں ،عوام اس سی سی پی او کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ عمر شیخ کی فائل کہہ رہی ہے کہ یہ کرپٹ سی سی پی او ہے،عمر شیخ کی صورت میں پنجاب میں نوری نتھ بیٹھا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عدالت سے معافی مانگی باہر آکر ہنس رہے تھے،حکومت کہتی ہے کہ وہ بیسٹ مین ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے،یہ کہنا کہ یہ خاتون فرانس سے کیوں آئی ہے ،واپس چلی جائیں ،یہ مناسب نہیں ،ذمہ دار کیا کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جن اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے وہ ہم کمزور کر رہے ہیں،سانحہ موٹر وے کے مجرموں کو گرفتار کرنے کی بجائے متاثرہ خاتون کو کہا گیاکہ گھر سے کیوں نکلی ۔ انہوںنے کہاکہ سی سی پی او لاہور کو برطرف کیا جائے ،سی سی پی او کا فرض تھا کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے،کسی کی عزت لٹ جائے ہم اسے ویزا لینے کا بہانہ سمجھتے ہیں۔ پرویز رشید نے کہاکہ ایسی سوچ رکھنے والے افسروں کو برقرار رکھ کر انکی تعریف کرکے ہم کیا پیغام دیتے ہیں،جناب وزیراعظم آپ کی مصروفیات کیا ہیں اقتصادیات آپ نے آئی ایم ایف اور خارجہ پالیسی بڑے بھائیوں کو دے دی، جب آپ خلا چھوڑیں گے تو خدانخواستہ کوئی دوسرا اس ذمہ داری کو پورا کرنے آجائے گا۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ لوگ سانحہ موٹروے کہنا بند کریں،جان بوجھ کر خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا ہے ،وزراء سی سی پی او لاہور کی پشت پناہی کرتے رہے ،سی سی پی او گینگ ریپ کی شکار خاتون سے سوال کرنے والے کون ہیں دل تو چاہتا ہے کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے،جب ہم کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی کیوں دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیں درد نہیں سرعام پھانسیوں سے کبھی جرائم میں کمی نہیں ہوئی،ضیاء دور میں سرعام پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوا،اس سے جرائم اور شدید ہوتے گئے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کے کہنے پر سرعام پھانسیوں کی مخالفت کرتے ہیں،سرعام پھانسیاں ہوئیں تو لوگوں کو تفرح کا موقع مل جائے گا۔ شیری رحمن نے کہاکہ سزا ان کو ملنی چاہئے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ خاتون باہر کیوں نکلی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ پولیس ایک گھنٹے بعد کیوں پہنچی،ریپسٹ کو بد ترین سزا دیں لیکن ضیا دور واپس نہ لائیں،مبارک ہو آج پاکستان کی رینکنگ ہائبرڈ جمہوریت میں کی گئی ،زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کا اختیار ہے،بہت سے کیسز میں سزا کے بعد پتہ چلتا ہے کہ سزا غلط ہوئی۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ موٹر وے واقعہ انتہائی شرمناک ہے،یہ جوڈیشری اور ایڈمنسٹریشن کا ریپ ہے،باتیں کرنے کی بجائے قانون سازی کی جائے،سزائے موت کو ہلکا نہ لیں یہ تفریح نہیں،سی سی پی او کا بیان نامناسب ہے اس کی مذمت کرتا ہوں،سی سی پی او وہ آدمی ہے جو بک نہیں سکتا،عمر شیخ پیٹی بند بھائیوں کے خلاف بھی کھڑا ہوا ہے،مجید اچکزئی، شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی یہاں کوئی بات نہیں کرتا،وہ بات کریں جس سے ہماری بیٹیاں محفوظ محسوس کریں ،ایک آدمی گرفتار ہو چکا ہے دوسرا گرفتاری کے قریب ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ اعتراز احسن نے کہا تھا کہ ریاست ہوگی ماں جیسی ہر ایک کو انصاف ملے گا ،یہاں دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ریاست ماں جیسی تو نہ بنی ڈائن بن گئی ہے ،کراچی میں کمسن بچی کا ریپ کرکے اس کا قتل کردیا گیا ہے ،ریاست میں مائوں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ظلم و ستم کے خلاف بات کرنے والوں کو یا غائب کردیا جاتا ہے یا ان کی کتابوں پر پابندی لگا دی گئی ہے ،اعتزاز احسن کہاں ہے وہ ریاست جو ماں جیسی ہوگی ،ریپ کی سزا کے طور پر سرعام پھانسی دینے کء بات کی جارہی ہے ،اگر سرعام پھانسی دینی ہے تو پہلے آئین کا آرٹیکل 12 پڑھ لیں ،سرعام پھانسی سے معاشرے میں بربریت کو مزید فروغ ملے گا ،کیا ضیاء الحق نے سرعام پھانسی نہیں دی تھی کیا جرائم ختم ہوگئے ،سرعام پھانسی دینا زیادتی کے واقعات روکنے کا حل نہیں۔ انہوںنے کہاکہ 13سی سی پی او لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کرتا ہوں،اگر حکومت سی سی پی او لاہور کو برطرف کریگی تو پیغام ملے گا کہ ریاست نے اپنی سمت درست کی ہے ،ان ریپ کیسز کا کیا ہوگا جو بہنوئی ، سسر اور انکل گھروں پر کرتے ہیں لیکن وہ کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔ سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہاکہ لاہور واقعے کا ایک معاشرتی اور ایک سیاسی پہلو ہے، معاشرے کی اصلاح میں ہم اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ انہوںنے کہاکہ زینب کیس پر بھی سیاست کی گئی، اس واقعے پر بھی سیاست کی گئی،کیا پولیس اور عدالتی نظام میں خرابیاں ڈھائی سال میں پیدا ہوئیں ۔بیرسٹر سیف نے کہاکہ کیا سیاسی جماعتوں نے پولیس اور اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا مرتضی بھٹو کو سڑک پر مارا گیا، کیا اس واقعے میں ملوث پولیس والوں کو تمغے نہیں دئیے گئی ،سانحہ ماڈل ٹائون میں کیا ہوا ان پولیس افسران کا کیا احتساب ہوا کراچی میں ایک عورت کا گھر میں ریپ ہوا، ملوث افراد کو صوبائی حکومت کا مشیر لگایا گیا، کیا ریپ کرنے والا ملزم 2018 میں پیدا ہوا ہم سب بچوں کی تربیت میں ناکام ہوئے، مجرم پیدا نہیں ہوتا معاشرہ اس کو مجرم بناتا ہے،جب یہ ریپسٹ جوان ہو رہے تھے تو معاشرے کے معززین کے درجے ہر ہم فائز تھے،یہ ہمارا فرض تھا کہ بچوں کی تربیت کرتے، اگر سی سی پی او کو لٹکانے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو کلمہ چوک پر لٹکا دیں۔۔مشاہد اللہ خان نے کہاکہ اگر سی سی پی او لاہور ٹھیک ہیں تو آئی بی نے ان کے خلاف رپورٹ کیوں دی ا سی سی پی او لاہور ٹھیک ہیں یا آئی بی اور ایجنسیاں ٹھیک ہیں اگر زیادتی کا واقعہ موٹروے کی بجائے رنگ روڈ پر ہوا ہے تو پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے ،وزیراعظم اور وزراء نے سی سی پی او لاہور کی تعریف کی ہے ،سی سی پی او کی کوئی معافی نہیں اس کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے ،یہ حکومت حالت بھنگ میں ہے ،جو حکومتیں چرس ، کوکین اور بھنگ کے چکر میں ہوں گی ان کی حکومت میں کسی کی عزت محفوظ نہیں ہوسکتی، مشاہد اللہ نے کہاکہ پورے ملک میں ماتم ہے اور حکومت سی سی پی او لاہور کو بچانے میں مصروف ہے،سانحہ ماڈل ٹائون لندن پلان کے تحت ہوا جس روز سانحہ ماڈل ٹائون کی تحقیقات ہوئیں طاہر القادری اور عمران خان بھی اس میں ملوث نکلیں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ 122 گھنٹے گزر گئے موٹروے واقعہ کے مجرم ابھی تک آزاد ہیں ،وزیراعظم نے فرمایا تھا کہ ٹیپو سلطان بننا ہے،سی سی پی او نے دلیل دی ہے کہ خاتون رات کو کیوں نکلی۔ انہوںنے کہاکہ کراچی کی ننھی مروہ کی دودن بعد لاش ملی،ننھے فرشتے آئے روز درندگی کا شکار ہو رہے ہیں،یہ کیسا نظام ہے کہ دو بوتل شراب کے کیس کے فیصلے میں 9 سال لگ جائیں۔ انہوںنے کہاکہ جنگل کا معاشرہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،عدل و انصاف کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہاکہ زیادتی کے واقعات تیزی سے بڑھنا مایوس کن ہے،سب سے پہلے تھانہ کلچر کو بدلنا چاہیے،کہا جا رہا ہے کہ ایک ملزم پکڑا گیا ایک رہ گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے ملزمان کی ضمانتیں ہوجاتی ہیں تاکہ وہ اور جرم کریں،ججز کی تقرری کا طریقہ کار بھی اطمینان بخش نہیں۔ قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ سی سی پی او کے ریمارکس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،عورت پر ظلم ہو تو کہا جاتا ہے زبان بند رکھو عزت پر حرف آئے گا۔ انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق انسانوں کیلئے ہوتے ہیں درندوں کیلئے نہیں،جب تک ملزمان کو عبرتناک سزا نہیں دیں گے معاشرے میں خوف پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوںنے کہاکہ موٹر وے واقعہ ایک المناک سانحہ ہے ،کسی معاشرے کی مضبوطی کا محور عورت کے مقام سے ہوتی ہے ،یہاں پر عورت کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے ،کریمنل جسٹس نظام چھلنی چھلنی ہے ،ماضی میں سیاسی مقاصد کیلئے پولیس کو استعمال کیا جاتا ہے ،یہاں عابد باکسر اور راو انوار جیسے سپوت تیار کئے گئے ،سی سی پی او کے ریمارکس کی مذمت کرتا ہوں ،درندوں کیلئے کوئی انسانی حقوق نہیں ہے، انہیں عبرتناک سزا ملنی چاہئے۔ سینیٹر رحمن ملک زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جنسی درندوں کو سر عام پھانسی کی سزا دی جائے، جنسی زیادتی کے واقعات کیلئے خصوصی قوانین لائے جائیں۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ لاہور موٹروے واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے،اب جنسی تشدد کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہے،اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم۔ہے،سی سی پی او لاہور کا بیان قابل مذمت ہے،لگتا ہے کہ اس ملک میں جنگل کا قانون ہے،اس ملک میں خواتین و بچے غیر محفوظ ہیں،پنجاب میں دوسالوں کے اندر چھ آئی جیز تبدیل ہوئے،یہ حکومت آئی جیز خور حکومت ہے،اتنی تبدیلی کے باوجود امن و امان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی،سوشل میڈیا کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی یہ واقعات ختم نہیں ہوگے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More