The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سیالکوٹ موٹروے پر سیکیورٹی کی عدم تعیناتی کی تحقیقات کی جائے، ایسے دلخراش سانحوں کا تدارک کرنے کے لئے ہمیں سمت درست کرنا ہوگی، واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل … مزید

15

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 14 ستمبر2020ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹروے پر سیکیورٹی کی عدم تعیناتی کی تحقیقات کی جائے‘ سفارش پر تعیناتیوں سے معاشرہ انحطاط کا شکار ہوتا ہے‘ ایسے دلخراش سانحوں کا تدارک کرنے کے لئے ہمیں سمت درست کرنا ہوگی، انصاف اور میرٹ کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے‘ واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے موٹروے واقعہ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے واقعہ نے پورے پاکستان کو اشک بار کیا ہے اور ہم سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجرم گرفتار ہوا۔ ایسے خوفناک واقعات کی روش کو روکنا ایک اہم سوال ہے۔

(جاری ہے)

دیکھتی آنکھ نے یہ شرمناک منظر بھی دیکھا کہ جب ایک پولیس افسر نے کہا کہ خاتون رات کو کیوں نکلی‘ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئی‘ پٹرول کیوں چیک نہ کیا۔

اس پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس سے پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے ہیں۔ ایجنسیوں کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ وہ کرپٹ ہے اور وہ اہل نہیں کہ اسے کوئی ایسی ذمہ داری دی جائے۔ ایک واقعہ نے اس کا پول کھول دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ جو واقعہ ہوا تھا ۔ مجرم پکڑا گیا اور قانون کے مطابق وہ سزا ملی جو دنیا یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے واقعہ پر اپوزیشن کی قیادت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے ‘ اپوزیشن نے پولیس افسر کے بیان کی مذمت کی۔ بدنام زمانہ پولیس افسر کو قوم بھلا نہیں سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوچنا ہوگا کہ اس طرح واقعات آئے روز کیوں ہو رہے ہیں۔ زینب واقعہ کے بعد پختونخوا میں اس طرح کا ایک اور دلخراش واقعہ ہوا تھا۔ اس واقعہ کا کھوج بھی اسی فارینزک لیب نے لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات بھی ہم نے شروع کیں۔ ڈولفن پولیس ہمارے دور میں شروع ہوئی۔ فورینزک لیب بھی ہمارے دور میں بنائی گئی۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی لیب ہے۔ انسداد دہشتگردی فورس بھی اصلاحات کے پروگرام کے تحت بنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسے دلخراش سانحوں کا تدارک کرنا ہے تو ہمیں سمت درست کرنا ہوگی۔ انصاف اور میرٹ کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔ ہائوس کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس واقعے کی تحقیقات کرے۔ اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ بدنام زمانہ افسر کو کیوں لگایا گیا۔ پولیس افسر سے پوچھا جائے کہ اس نے بیان کیوں دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بچی کے ساتھ دلخراش واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More