The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ، معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا … کیا کراچی میں صرف ڈینیل پرل ہی گورے رنگ کا تھا،ہمیں … مزید

9

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کا معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں ڈینئل پرل کیس میں سندھ ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ ڈینیل پرل کے اغوا کا گواہ کون ہے اور کس نے کہا کہ مغوی ڈینئل پرل تھا،استغاثہ کے گواہ ٹیکسی ڈرائیور کے بیان میں جھول ہے اسے کیسے علم ہوا کہ گورے رنگ کا یہ شخص ڈینئل پرل ہی کیا کراچی میں صرف ڈینیل پرل ہی گورے رنگ کا تھا،ہمیں کیسے پتہ کہ وہ ڈینیل پرل ہی تھا،وکیل سندھ حکومت فارق ایچ نائیک نے کہاکہ حالات و واقعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ ڈینیل پرل تھا۔

(جاری ہے)

فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ سی پی ایل سی کے سربراہ سے ملنے کے بعد ڈینیل پرل عمر شیخ سے ملا جس پر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ کیا اس گاڑی کا نمبر ملا جس پر ڈینیل پرل سوار ہوا،ٹرائل کورٹ نے تو دفعہ 302 کے تحت ملزمان کو سزا ہی نہیں دی،کیا آپ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا،جسٹس قاضی امین بولے اس کیس میں کیپٹل ریفرنس فائل کیا گیا تھا جس پر وکیل سندھ حکومت نے کہا ہائیکورٹ کے حکم میں کہا گیا کہ سازش ہوٹل میں نہیں ہوئی جبکہ میں یہ ثابت کروں گا کہ سازش ہوٹل میں ہوئی۔جسٹس منظور احمد ملک نے استفسار کیا کہ سزا کیخلاف اور ملزمان کو بری کرنے کے فیصلوں کے الگ الگ اصول ہیں،یہ بتائیں کہ ملزمان اب تک کتنی سزا کاٹ چکے ہیں، وکیل ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان 18 سال سے زائد سزا کاٹ چکے ہیں۔فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس کے سات بنیادی نکات ہیں جن پر بحث کیلئے تین گھنٹے چاہئیں۔جسٹس منظور ملک نے کہا کہ آپ بے شک 17 نکات لے آئیں مگر تین گھنٹے زیادہ وقت ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ فاروق ایچ نائیک آپ آئندہ سماعت سے قبل تحریری دلائل جمع کرا دیں،فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے استدعا کی 30 ستمبر کو ملزمان رہا ہو جائیں گے اس سے پہلے کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، ممکن ہو تو عدالت سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرے تاہم سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More