The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سندھ اور وفاقی حکومتوں کا آئی ٹی پر مبنی صنعت کو مستحکم کرنے پر اتفاق

12

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انکی حکومت صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے اس لئے وہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنے جارہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کی سربراہی میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے وفد کے ساتھ ایک ملاقات میں کہی۔ وفد کے دیگر ممبران میں سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی، چیئرمین پاکستان سافٹ ویئر ہاسز ایسوسی ایشن (پی ایس ایچ ای)شہزاد شاہد، ایم ڈی پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) عثمان ناصر اور دیگر شامل ہیں جبکہ وزیراعلی سندھ کی معاونت وزیر آئی ٹی تیمور تالپور، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، وائس چانسلر این ای ڈی ڈاکٹر سروش لودھی، مشیر ٹیکس پالیسی ایس آر بی مشتاق کاظمی اور دیگر نے کی۔

(جاری ہے)

دورے پر آئے ہوئے وفد نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 2014 سے 2020 تک برآمد کی ترسیلات زر میں 137 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2014 میں 370 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2020 میں 1.231 بلین ڈالر ہو گیا ہے۔ ان آئی ٹی پر مبنی یونٹس میں کال سنٹرز، کمپیوٹر کی بحالی و مرمت، ہارڈ ویئر و سافٹ ویئر کنسلٹنسی سروسز، کمپیوٹر سافٹ ویئر کی برآمد وغیرہ شامل ہیں۔ ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پاکستان کو آئی سی ٹی برآمد کرنے والے 10 ممالک میں شامل کرسکتی ہے اگر آئی ٹی پارکس قائم ہوجاتے ہیں تو آئی ٹی پر مبنی صنعت کو ٹیکس میں رعایت دی جاتی ہے۔ اجلاس میں آئی ٹی پر مبنی صنعت کو ٹیکس مراعات اور سہولیات دینے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشترکہ اجلاسوں پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وہ آئی ٹی پر مبنی صنعتی ٹیکس نظام اور صوبائی کابینہ میں مراعات کی تجاویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا میری حکومت آئی ٹی انڈسٹری کو مستحکم کرنے کیلئے پرعزم ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More