The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سعودی عرب میں مٹی سے بنی عمارتوں کا قصبہ سیاحو ں کی توجہ کامرکز … سیاحوں کے علاوہ سمندر میں تیراکی کرنے، مچھلیوں کا شکار کرنے والے بھی اکثر اس علاقے میں پائے جاتے ہیں،رپورٹ

8

سیاحوں کے علاوہ سمندر میں تیراکی کرنے، مچھلیوں کا شکار کرنے والے بھی اکثر اس علاقے میں پائے جاتے ہیں،رپورٹ

جمعرات ستمبر
12:12

سعودی عرب میں مٹی سے بنی عمارتوں کا قصبہ سیاحو ں کی توجہ کامرکز
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 ستمبر2020ء) سعودی عرب میں بحیرہ احمر کے شمال میں ساحل کے ساتھ ساتھ پہاڑوں اور قلعوں کی عمارتوں کے درمیان مٹی سے بنے پرانے دور کے گھروں پر مشتمل ایک قصبہ آج بھی اپنے دیکھنے والوں کو ماضی میں لیجاتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق مٹی کے سادہ طریقے سے تعمیر کردہ ان گھروں اور عمارتوں پر کہیں نقش ونگار بھی دکھائی دیتے ہیں جو ماضی کی تہذیبوں کی علامت اور تاریخ اور ماضی کی ثقافت کا ایک آئینہ پیش کرتی ہیں۔سیاحوں کی توجہ کے مرکز اس پرانے قصبہ ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ اس کے ایک طرف بحیرہ احمر کی موجیں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور دوسری طرف ساحل کے قریب بنی پرانی مٹی کی بنی عمارتیں بھی کم پرکشش نہیں۔سیاحوں کے علاوہ سمندر میں تیراکی کرنے، آبی حیات کے بارے میں تحقیقی مشن پرآنے اور مچھلیوں کا شکار کرنے والی ٹیمیں بھی اکثر اس علاقے میں پائی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

سعودی عرب کے ایک فوٹو گرافر محمد الشریف نے تبوک کے اس پرانے قصبے کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ یہ تصاویر کم اور فن پارے زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ تصاویر میں تبوک میں ساحل کے ساتھ ساتھ بنی عمارتوں میں پرانے دور کے مکانات، قلعے،دیواریں اور بندرگاہ سے متعلق تنصیبات دیکھی جا سکتی ہیں۔محمد الشریف نے کہا کہ تاریخی اور قدرتی مقامات کی تصویر کشی میرا مشغلہ ہے اور میں تبوک کے اس گائوں کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔ اس میں ہمیں ماضی کے کئی ادوار کے فن تعمیر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بعض بوسیدہ ہونے والی عمارتوں کی مرمت بھی شروع کی ہے، یہاں پر ہمیں گھروں کے ساتھ ساتھ پرانے دور کے راستے بھی ملتے ہیں جو اس دور میں انسانی سماج، رہن سہن اور بود و باش کا پتا دیتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More