The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سعودی عرب میں خواتین کی ملازمت کے حوالے سے اہم احکامات جاری … کسی خاتون کو مردانہ شاپ میں ملازمت دینے پر سخت کارروائی ہو گی، ایک جیسے کاموں پر خواتین اور مردوں کی تنخواہ … مزید

6

ریاض (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16 ستمبر2020ء) سعودی عرب میں خواتین کو گزشتہ چند سالوں سے بہت سی آزادیاں اور حقوق دیئے جا رہے ہیں۔ درجنوں ایسے شعبے جن پر خواتین کے لیے دروازے بند تھے، اب ان میں خواتین شامل ہو کر اپنی صلاحیت اور قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔ سعودی خواتین کاروبار بھی بڑی کامیابی سے چلانے لگی ہیں۔ خواتین کی مردوں کے ساتھ ملازمت کے نتیجے میں کچھ مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں، جن کے حل کے لیے مختلف ضوابط تشکیل دیئے جا رہے ہیں۔ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے نجی اداروں اور دُکانوں میں خواتین کی ملازمت کے حوالے سے اعلان کیاگیا ہے کہ کسی خاتون کوایسے کاروباری مرکز میں ملازمت نہیں دی جائے گی جہاں صرف مرد گاہک آتے ہیں یا مردوں کا ہی سامان موجود ہو۔

(جاری ہے)

اسی طرح مردانہ سپورٹس کلب اورمردانہ باربر شاپس میں بھی خواتین کو ملازمت نہیں دی جا سکے گی۔

کوئی مخصوص کام یا خدمت انجام دینے والے مردوں اور خواتین کی تنخواہوں میں کوئی فرق نہیں رکھا جائے گا، انہیں یکساں تنخواہ دینی ہو گی۔ ملازمین سے کوئی ایسا کام نہیں کرایا جائے گا جو سماجی آداب کے منافی ہو۔ خواتین اور مردوں کے مخلوط اداروں اور کاروباری مراکز میں ان کے لیے ڈیوٹی کے الگ مقامات رکھے جائیں گے۔ خواتین کے لیے الگ ریسٹ رومز اور نماز پڑھنے کی جگہیں بھی مختص کرنا لازمی ہوں گی۔ خواتین یا مرد کارکنان ایسا لباس نہیں پہنیں گے جو شرعی احکام کے منافی ہو۔ واضح رہے کہ چند روز پہلے ایک کافی شاپ کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا تھا جہاں سعودی خواتین سے ویٹرس کا کام لیا جا رہا تھا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد طائف میں واقع کافی شاپ پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا اور خواتین ویٹرس کو کام کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق سعودی حکام نے ایک مقامی کافی شاپ میں سعودی خواتین کو ویٹرس کے طور پر بھرتی کرنے پر اس پر بھاری جرمانہ لگا دیا ہے اوراس کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ کیونکہ سعودی قوانین محنت کے مطابق خواتین سے ویٹرس کا کام لینے پر مکمل پابندی عائد ہے، خواتین ویٹرس صرف انہی ریسٹورنٹس اور کافی شاپس میں خدمات انجام دے سکتی ہیں جہاں صرف خواتین گاہکوں کو ہی آنے کی اجازت ہو، اور مردوں کا داخلہ مکمل طور پر بند ہو۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب طائف میں واقع ایک کافی شاپ میں عبایہ پوش خواتین ویٹرس کی جانب سے گاہکوں سے آرڈر لیتے اورا نہیں کھانا پیش کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ عوام کی جانب سے سعودی خواتین سے ویٹرس کا کام لینے کو سعودی سماجی اقدار کی توہین قرار دیا گیا اور انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔وزارت انسانی وسائل کے ترجمان ناصر الحزانی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر خواتین ویٹرس کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ریسٹورنٹ انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔ویڈیو کے ذریعے سامنے آنے والے معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے وزارت کی جانب سے ایک تفتیشی ٹیم گاہکوں کے روپ میں بھیجی گئی، جس نے مشاہدہ کیا کہ مذکورہ کیفے میں خواتین ٹیبل سروس کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔قانون محنت کی خلاف ورزی پر اس کافی شاپ پر فوری جرمانہ عائد کیا گیا اور خواتین ویٹرس کو ملازمت کرنے سے روک دیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More