The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سرکاری زمینیں بچانے کی پاداش میں جبری تبادلہ کیا گیا،رضوان خان … جبری چارج لینے والے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ان زمینوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے لایا گیا ہے،پروجیکٹ ڈائریکٹر … مزید

15

!کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری و پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی محمد رضوان خان نے کہا ہے کہ کچھ عناصر اچھی کارکردگی کو ہضم نہیں کر پا رہے یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی اور مفاد پرست گروپوں کے ایماء پر میڈیا وار اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ سرکاری زمینیں بچانے کی پاداش میں جبری تبادلہ کیا گیا۔ ون مین آرمی بن کر سیاسی اور سرکاری دونوں عناصر کا مقابلہ کیا۔ رضوان خان نے مذید کہا کہ سینکڑوں ایکڑ زمینیں واگزار کرائیں ۔ جو کچھ افراد ٹھکانے لگانا چاہتے تھے۔لیکن نہ صرف زمینیں بچائیں بلکہ آج بھی محفوظ ہیں۔ جبری چارج لینے والے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ان زمینوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے لایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ابھی تک پروجیکٹ ڈائریکٹر سے ہٹانے کا حکم نامہ نہیں ملا۔

قابض پروجیکٹ ڈائریکٹر سے تصادم نہیں چاہتا ۔ وہ ڈپٹی میئر اور سعد بن جعفر کو فلاحی زمینیں کمرشل کرنے اور لیز کرانے کی یقین دہانی پر پرانی تاریخوں میں آرڈر لیکر آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات کے ایم سی بلڈنگ میں صحافی دوستوں سے گفتگو میں کہی جو انکا موقف لینے کے لئے آئے تھے۔ محمد رضوان خان نے کہا کہ ہر طرح کے احتساب کے لئے کسی بھی فورم پر پیش ہوسکتا ہوں ۔میں نے 192تجاوزات کی نشاندہی کی۔ جس میں 22پارکوں پر قبضہ ہے اور مختلف ادوار میں لیز دی گئی ہیں۔ لیکن اس پر کام نہیں کرنے دیا گیا۔ 10ایسی فلاحی زمینیں خالی کرائیں جو نا ممکن تھیں۔ اس پر ایک سیاسی جماعت دشمن ہوگئی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی کے بعد SNEمیں ایڈیشنل ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آسامیاں تک نہیں ہیں ۔ پروپوزل بھیجا مسترد کردیا گیا اس لئے دوسرے محکوں سے پوسٹنگ ہوتی ہیں ۔ عبدالمنان اور دیگر اسی کے تحت تعینات تھے۔ جنہیں کئی ماہ پہلے ریلیف کردیا تھا۔ دعوی سے کہتا ہوں کہ مختلف ادوار کی لیزوں کو منسوخی کے لئے SUit فائل کئے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت اپنا دفتر لیز کرانا چاہتی تھی۔ چار فلاحی زمینیں رشتہ داروں کو الاٹ کرانے کی خواہش مند تھیں ۔ مجھے زچ کر کر کے بیمار کردیا۔ میرا عملہ شدید عتاب میں تھا۔ چار سال بدترین تھے۔سیاسی مداخلت اور منتخب نمائندوں کی فرمائشیں پوری کرنا نا ممکن تھیں۔ جو زمینیں یہ لیز کرانا چاہتے تھے وہ فلاحی تھیں ۔ یہ ایس ٹی پانچ علی گڑھ کے 84متاثرہ دکانداروں کا بھی حق مار کر مسرت ، کنور نور اور ثمینہ احمد کو لیز کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ جبکہ یو سی ڈی کی 7500گز جگہ پر قبضہ کرکے سیاسی فرد کے نام پر لیز اور 35دکانوں کی چائنا کٹنگ چاہتے تھے۔ اسی طرح نیشنل بنارسی کی دو ہزار جگہ پر سیاسی فرد کی لیز اور 30دکانوں کی چائنا کٹنگ کی جانی تھی۔میری جانب سے مزاحمت اور مکمل عدم تعاون پر فائلیں کچی آبادی سے چیئرمین نے تیار کرائیں۔ جبکہ پے آرڈر اور اخبار میں اشتہارات بھی دے دیئے گئے تھے۔ تمام چیزیں ضبط کرکے رخصت پر چلا گیا اور کام نہیں ہونے دیا۔ نیب ، چیئرمین اینٹی کرپشن ، وزیر بلدیات ، چیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری بلدیات کو آگاہ کردیا ۔ ریمائنڈر بھی بھیجا ہے جبری چارج کی رپورٹ بھی کی ہے۔ فخر ہے غلط کام نہیں کیا ۔ گالیاں کھائیں ۔ دھمکیاں برداشت کیں۔ گھر پر تین مرتبہ غنڈوں کو بھیجا گیا۔ لیکن ون مین آرمی بن کر میں نے اور اہل خانہ نے سب برداشت کیا۔پروجیکٹ کی تاریخ میں مختلف محکموں پر 140ملین روپے کے واجبات نکالے ۔ پی ٹی سی ایل سی6کروڑ کی وصولی کے لئے Suit فائل کی ہوئی ہے۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جرمن اور کورین کی جگہوں پر سندھ ہائی کورٹ میں کیس چل رہا ہے ۔ نیب انکوائری بھی ہو چکی ہے۔ یہ ٹرسٹ کی جگہ ہے ۔ عدالت جب کے ایم سی کے حوالے کریگی۔ کے ایم سی مروجہ قوانین کچی آبادی کے تحت اس پر فیصلہ لیگی۔ گلشن ضیاء 2009میں سٹی ناظم مصطفی کمال کے دور میں کونسل کی قرارداد اور تمام قوانین کی تکمیل کے بعد اورنگی پروجیکٹ کا حصہ بنا ۔ سندھ ہائی کورٹ سے میرے دور میں کیس جیتے ۔ سپریم کورٹ نے مخالف فریق کی اپیل مسترد کردی۔ اب ڈپٹی کمشنر ان زمینوں پر Claimکر رہے ہیں ۔ جسکی وجہ سے گلشن ضیاء کی لیزیں بند کرادی تھیں۔ اب حدود کے تعین کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں Suitفائل کرنے جا رہے تھے کہ سابقہ بلدیاتی قیادت نے غلط کام نہ کرنے پر فریئر ہال میں بیٹھ کر مدت گزرنے کے بعد پرانی تاریخ میں شارق الیاس کو ڈپٹی میئر کی یونین کونسل میں انڈر ٹیکن لیکر آرڈر دے دیا ۔ یہ کام مظہر خان سے کام لیا گیا اور اسکے بعد جمیل فاروقی کو سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم بنا دیا گیا۔ وہ Competentافسر ہیں تمام Codal formalitiesپوری کرتے ہیں ۔ اس لئے ان سے یہ کام نہیں لیا جاسکا۔ سوسائٹیز جو کچی آبادی میں 2009میں بنائی گئی تھیں ۔ نیب اور اینٹی کرپشن کو مکمل رپورٹ دیکر ختم کرائیں۔اب بھی اگر کوئی سوسائٹی کا نام استعمال کرتا ہے تو ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی ہے۔ سسٹم ٹھیک کرنے کی کوشش کی لیکن لینڈ مافیا بہت طاقتور اور سیاسی جماعتوں کی سپورٹ پر چھائی ہوئی ہے ایکشن لیا تو میڈیا وار شروع کردی گئی۔ افسران کو defameکیا گیا۔ اس لئے لیز ان علاقوں کی بند کردی گئی۔اللہ توکل پر کام کر رہا ہوں ۔ جہاں ذمہ داری ملے گی بھرپور صلاحیتوں کامظاہرہ کروں گا۔ افسران سے متعلق بے بنیاد باتوں کی مذمت کرتا ہوں کام کرینگے تو شکایات بھی ہوں گیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More