The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سردیوں میں کورونا وائرس کی نئی لہر آ سکتی ہے، ابھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی،وزیر اعظم … اپوزیشن، پیسے والے، اکیڈمی اور میڈیا کے ادارے ہم پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اگر مکمل … مزید

3

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے باوجود خطرہ ظاہر کیا ہے کہ سردیوں میں ملک میں کورونا وائرس کی نئی شدید لہر آ سکتی ہے اس لیے ابھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی ،اپوزیشن، پیسے والے، اکیڈمی اور میڈیا کے ادارے ہم پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن نہ کیا تو وباء پھیل جائے گی، دبائو میں آجا تا تو پاکستان کا بیڑہ غر ق ہو جاتا ،ہم نے پاکستان کو ڈیفالت ہونے سے بچایا، ہمارے ذخائر ختم ہو چکے تھے، اپنے بیرون ملک قرضوں کی ادائیگیاں کر نہیں سکتے تھے، ہمیں چاروں طرف سے دباؤ کا سامنا تھا اور وہ بڑا مشکل وقت تھا، اپوزیشن چاہتی ہے عمران خان پریشر میں آکر مشرف کی طرح این آر او دے دو ، بلیک میل نہیں ہونگا۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے کورونا وائرس کے معاملے پر وہی غلطی کی جو پاکستان کی سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کورونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی دو ماہ کے دورابن اپوزیشن مجھے مسلسل کہہ رہی تھی کہ ایک مکمل لاک ڈاؤن کرو جس طرح یورپ اور چین کے شہر ووہان میں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک برا طبقہ دیہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام میں چولہا جلتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچھی آبادیاں ہیں لہٰذا میرا کہنا تھا کہ اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ ہماری اپوزیشن، پیسے والے، اکیڈمی اور میڈیا کے ادارے ہم پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن نہ کیا یہ پھیل جائے گی لیکن نریندر مودی اس دباؤ میں آ گیا اور اس نے 4 گھنٹے کے نوٹس پر کرفیو لگا دیا۔عمران خان نے کہا کہ میرا اعتراض یہ تھا کہ جہاں اتنی غربت ہے کہ وہاں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے اور جب مودی نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تو ایسا ممکن نہ ہو سکا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور ہوا یہ کہ کورونا پھیلتا رہا اور جیسے ہی انہوں ے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تو وہ پورے ملک میں پھیل گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، ہم زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم قابو پانے میں کامیاب رہے۔کورونا وائرس پر بھارت سے تقابلی جائزے پر انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت میں جو غربت آئی ہے اس کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کی معیشت کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا ہماری تعریف کررہی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے سیکھو کیونکہ ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے بہتر انداز میں کورونا کا مقابلہ کیا۔عمران خان نے اس موقع پر خبردار کیا کہ ہم کورونا پر کافی حد تک کامیابی سے قابو پا چکے ہیں تاہم سردیوں میں کورونا کی ایک اور شدید لہر آ سکتی ہے لہٰذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جدوجہد آپ کو دباؤ جھیلنا سکھاتی ہے جو ایک لیڈر کی سب سے بڑی صلاحیت ہوتی ہے اور اگر میں اپوزیشن کے دباؤ میں آجاتا تو آج ہمارا ہندوستان سے بھی برا حال ہوتا کیونکہ ہندوستان کے تو ہم سے بہتر معاشی حالات تھے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن، میڈیا، دانشوروں اور چند ڈاکٹرز نے میرے خلاف جس طرح سے منظم مہم چلائی اور اگر میں ان کے دباؤ میں آجاتا تو پاکستان کو بیٹا غرق ہوجانا تھا کیونکہ ہماری معیشت بھی بیٹھ جاتی اور ہم وائرس پر بھی قابو نہیں پا رہے ہوتے اور لوگ کورونا سے مر رہے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ میری 22سال کی سیاسی جدوجہد نے مجھے ان 2سالوں کیلئے تیار کیا کیونکہ اگر یہ جدوجہد نہ ہوتی تو میں ان دو سالوں کے دوران پڑنے والے دباؤ کو کبھی برداشت نہیں کر پاتا۔اپنی ٹیم کی کامیابیوں کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ میری ٹیم کی سب سے پہلی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ڈیفالت ہونے سے بچایا، ہمارے ذخائر ختم ہو چکے تھے، ہم اپنے بیرون ملک قرضوں کی ادائیگیاں کر نہیں سکتے تھے، ہمیں چاروں طرف سے دباؤ کا سامنا تھا اور وہ بڑا مشکل وقت تھا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ڈر یہ تھا کہ اگر ہم اپنی رقم کی ادائیگیوں کے معاملے پر ڈیفالٹ کر جاتے تو براہ راست روپے پر اثر پڑنا تھا اور روپیہ جب گرتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں اور غربت بڑھ جاتی ہے جبکہ ملک میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں کرتا۔وزیر اعظم نے کہا کہ دوسرا دباؤ یہ تھا کہ ساری اپوزیشن پہلے دن سے اکٹھی تھی اور پہلے دن سے کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، پہلے ملک کو کنگال کر کے چلے گئے اور پھر کہا کہ حکومت ناکام ہو گئی، ان کے ساتھ میڈیا کے کئی لوگ ملے ہوئے تھے اور افرا تفری مچائی ہوئی تھی۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک ایجنڈا ہے اور یہ نیشنل ڈیموکریٹک اپوزیشن نہیں ہے کیونکہ وہ تو عوام کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، ان صرف ایک ایجنڈا ہے کہ ان کے لیڈرز کی کرپشن بچانے کے لیے کسی طرح حکومت کو بلیک میل کریں کہ عمران خان پر اتنا پریشر پڑ جائے کہ جس طرح مشرف نے دو این آر دو دئیے تھے، اسی طرح میں بھی دے دوں کیونکہ مشرف نے وہ این آر او دباؤ میں ہی دئیے تھے۔انہوکںنے کہاکہ پہلا این آر او مشرف نے نواز شریف کو دیا جس میں 10سال کا معاہدہ کیا تھا کہ تم باہر چلے جاؤ تو ہم تمہارے حدیبیہ پیپر مل کے کیسز بن کردیں گے اور دوسرا جب ججز کی تحریک میں دباؤ پڑا تو انہوں نے کونڈا لیزا رائس سے دستخط کرائے، آصف زرداری کو این آر او دیا اور اپنی کرسی بچانے کے لیے ان کے سارے کیسز معاف کیے۔وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ (ن )لیگ کی یہ تنقید درست ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جلدی جانا چاہیے تھا تاہم ہم اس وقت کوشش میں تھے کہ ہمیں نہ جانا پڑے، پہلے کوشش تھی کہ ہمیں دوستوں سے اتنا پیسہ مل جائے کہ ہمیں جانا ہی نہ پڑے لیکن ہم نے سمجھ لیا کہ یہ ہی بڑی بات ہے کہ انہوں نے ہمیں پیسہ دیا کیونکہ اس کی بدولت ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے جبکہ میں مانتا ہوں کہ ہمیں تجربہ بھی نہیں تھا کیونکہ ہم جتنا ہم توقع کر رہے تھے اتنا کوئی ملک بھی نہیں دیتا۔وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ نیا پاکستان بنانا ایک پورا عمل ہے لیکن اپوزیشن نے پہلے دن سے صورتحال کا پورا فائدہ اٹھایا کیونکہ ان کا مفاد صرف بلیک میل کرنے میں تھا، انہوں نے ہمیں کورونا، ایف اے ٹی ایف، معیشت اور کشمیر پر بھی انہوں نے بلیک میل کیا اور سب کنٹینر پر چڑھ گئے۔جب مجرم ملک کی سیاست میں آ جائیں تو وہ ملک کے بجائے اپنی ذات کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور وہ دشمن سے زیادہ ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More