The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سانحہ گجر پورہ، متاثرہ خاتون کے بیان ریکارڈ کروائے بنا کیس آگے نہیں بڑھے گا … اگر مدعی نے عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ نہ کروایا تو کیس کمزور ہو جائے گا، خاتون کو عدالت … مزید

11

لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2020ء) سابق آئی جی پولیس شوکت جاوید کا کہنا ہے کہ سانحہ گجر پورہ، متاثرہ خاتون کے بیان ریکارڈ کروائے بنا کیس آگے نہیں بڑھے گا، اگر مدعی نے عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ نہ کروایا تو کیس کمزور ہو جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سابق آئی جی پولیس شوکت جاوید کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سانحہ گجر پورہ کی متاثرہ خاتون کو کم از کم ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروانا پڑے گا۔ اگر خاتون نے عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ نہ کروایا تو اس سے ان کا کمزور ہو جائے گا۔ سابق آئی آئی جی کا کہنا ہے کہ ڈین اے ٹیسٹ اور دیگر تفتیش کا تب تک کوئی فائدہ نہیں جب تک مدعی خود عدالت میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ نہ کروایا۔

(جاری ہے)

عدالت میں بیان ریکارڈ نہ کروایا گیا تو کیس کمزور ہو جائے گا۔ اس لیے لازمی ہے کہ متاثرہ خاتون کو راضی کیا جائے کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ تو عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

اس معاملے میں عدالت کو بھی دیکھنا ہوگی کہ خاتون کی شناخت ظاہر نہ ہو۔ متاثرہ خاتون کی شناخت چھپائے رکھنے کیلئے عدالت ان کیمرہ سماعت بھی کر سکتی ہے۔ کیس کے حوالے سے معروف اینکر و سینئر صحافی کاشف عباسی کا کہنا ہے کہ کئی کیسز کی مثالیں موجود ہیں جن میں مدعی کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان چھوٹ گئے۔ کئی زیادتی کیسز میں پولیس ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر تفتیشی طریقوں سے جرم ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، لیکن پھر مدعی کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے کیس ختم ہو جاتا ہے اور ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور موٹروے پر پیش آئے سانحہ گجر پورہ کے بعد واردات میں ملوث ایک ملزم شفقت گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جبکہ مرکزی ملزم عابد علی فرار ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم عابد علی کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ جبکہ گرفتار ملزم شفقت کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More