The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

سانحہ بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری کیس کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی … تاریخ کے بڑے صنعتی سانحہ کیس کا فیصلہ 8 سال بعد آج سنائے جانے کا امکان تھا

7

کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 ستمبر ۔2020ء) کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری کیس میں مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی ہے. خیال رہے کہ ملک کی صنعتی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی حادثے بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری کیس کا فیصلہ 8 سال بعد آج سنائے جانے کا امکان تھا آج متوقع فیصلے کے پیش نظر بڑی تعداد میں میڈیا، صحافی عدالت میں موجود تھے.

(جاری ہے)

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کی جانب سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے اور فیصلہ سنائے جانے کا امکان اس لیے بھی تھا کیونکہ شواہد کی ریکارڈنگ، پراسیکیوشن کے گواہوں کے بیانات، ملزمان کے بیانات، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور ملزمان کے وکیل اپنے دلائل تقریباً مکمل کر چکے ہیں. تاہم عدالت کی جانب سے مذکورہ کیس کی سماعت کو 22 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا کیونکہ اسٹیٹ پراسیکیوٹر (سرکاری وکیل) نے متاثرین سے متعلق اضافی دستاویزات پیش کیں جنہیں حکومت اور غیرملکی خریدار کمپنی کی جانب سے معاوضہ ملا ہے. بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے پر مزید دلائل کے لیے کیس کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی جہاں آئندہ سماعت پر فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے مذکورہ کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رﺅف صدیقی سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاﺅن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل ہیں. ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے. واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 یعنی کے 8 سال قبل کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن میں واقع ایک فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے اس المناک واقعے کے بعد اس پر کئی سوالات اٹھے تھے کہ آگ لگی یا لگائی گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی،مزید یہ کہ کیس کی ابتدائی چارج شیٹ میں مبینہ غفلت پر فیکٹری مالک عبدالعزیز بھیلا، ان کے دو بیٹوں ارشد بھیلا اور شاہد بھیلا ، ایک جنرل منیجر اور چار چوکیداروں کو نامزد کیا گیا تھا. البتہ فروری 2015 میں کیس نے اس وقت نیا موڑ لیا جب پاکستان رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 25کروڑ روپے بھتے کی عدم ادائیگی پر فیکٹری میں آگ لگائی اور اسی جے آئی ٹی کی بنیاد پر دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا. مارچ 2016 میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ فیکٹری میں منظم منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے پولیس نے اپنی جے آئی ٹی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور حماد صدیقی، مبینہ فرنٹ مین عبدالرحمان عرف بھولا، کاروباری بھائیوں علی حسن قادری اور عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، اقبال ادیب خانم، زبیر عرف چریا اور دیگر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا البتہ طویل تفتیش کے بعد پولیس نے اگست 2016 میں ضمنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے حماد صدیقی، عبدالرحمان دیگر تین نامعلوم ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی اور دیگر 13 افراد کو ٹرائل میں نامزد نہیں کیا تھا لیکن عدالت نے جن افراد کے نام نئی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیے گئے تھے ان کو بھی ملزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالکان نے فیکٹری کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ دیگر افراد نے بھی جرم کا ارتکاب کیا. دسمبر 2016 میں عبدالرحمان عرف بھولا کو انٹرپول کے ذریعے بنکاک سے گرفتار کیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا، اپریل 2017 میں پولیس نے بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کی تھی مذکورہ ضمنی چارج شیٹ میں عبدالرحمان نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر عرف چریا اور دیگر کو حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت کی تھی کیونکہ فیکٹری مالکان مانگی گئی بھتے کی رقم یا فیکٹری میں شراکت داری سے انکار کر چکے تھے. انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد اس وقت کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے صوبائی وزیر رﺅف صدیقی نے مبینہ طور پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور بعد میں انہیں پتہ چلا تھا کہ رﺅف صدیقی اور حماد صدیقی کو مقدمہ ختم کرنے کے لیے فیکٹری مالکان سے 4 سے 5کروڑ روپے کی رقم ملی تھی لیکن پولیس نے اپنی ضمنی رپورٹ میں رکن صوبائی اسمبلی کو معصوم قرار دیا تھا. اس کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے مقدمے میں رﺅف صدیقی کو نامزد نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف اتنے ثبوت موجود ہیں کہ انہیں چارج شیٹ میں نامزد کیا جا سکتا ہے جنوری 2018 میں عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے رﺅف صدیقی کو بھی ملزم قرار دیا تھا علاوہ ازیں اپریل 2019 میں کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور واقعے میں ملوث ایک ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کیا گیا تھا. اس کیس میں پراسیکیوشن فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کر چکی ہے پراسیکیوٹر ساجد محمود شیخ کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے سے 264 افراد جل کر راکھ ہو گئے تھے اور ان میں سے 17 افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا ہے.

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More