The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

دُبئی میں پاکستانی خاتون کوبزرگ باس نے کئی بار جنسی ہراسگی کا نشانہ بنا یا … خاتون کی جانب سے ناجائز تعلقات سے انکار پر پاکستانی باس نے اسے نوکری سے نکال دیا

2

خاتون کی جانب سے ناجائز تعلقات سے انکار پر پاکستانی باس نے اسے نوکری سے نکال دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان
بدھ ستمبر
14:53

دُبئی میں پاکستانی خاتون کوبزرگ باس نے کئی بار جنسی ہراسگی کا نشانہ ..
دُبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16 ستمبر2020ء) دُبئی میں ایک پاکستانی خاتون کو اس کے بزرگ نے انتہائی شرمناک سلوک کا نشانہ بنا ڈالا۔ جنسی تعلقات سے انکار پر پاکستانی خاتون پر جسمانی حملہ کیا گیا۔جنسی حملے کا نشانہ بننے والی پاکستانی خاتون نے بتایا کہ وہ ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی میں ملازمت کرتی تھی، جہاں کا 59 سالہ پاکستانی مینجر اس پر بُری نظر رکھتا تھا اور اکثر بہانے بہانے سے اس کے جسم کے چھُوتا رہتا تھا۔خاتون کو کمپنی کی جانب سے ایک کار مہیا کی گئی تھی جس کے ذریعے وہ گورنمنٹ محکموں کی ٹرانزیکشن کے سلسلے میں باہر جایا کرتی۔ اکثر مینجر بھی اس کے ساتھ چلا جاتا، جہاں خاتون کی ڈرائیونگ کے دوران وہ اس سے نازیبا حرکات کرتا۔ خاتون کے روک دینے پر وہ کچھ روز کے لیے باز آ جاتا مگر پھر دوبارہ اپنی شرمناک حرکات پر اُتر آتا۔

(جاری ہے)

خاتون نے بتایا کہ اس کے مینجر نے اس سے 25 سے زائد بار جنسی چھیڑ چھاڑ کی حرکات کیں۔

اس کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا کہ جب آفس میں کوئی آس پاس نہ ہوتا تو وہ اس کے جسم کی پچھلی جانب بھی ہاتھ پھیرنے جیسی حرکات باربار کرنے لگا۔ ملزم نے کئی بار اس پر جنسی حملہ بھی کیا، مگر وہ خود کو اس کی ہوس سے بچا پانے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔آخر جب وہ اس کی حرکات سے تنگ آ کر اس سے دُور دُور رہنے لگی تو ایک روز اس کے مینجر نے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا جس میں خاتون سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس کے ساتھ جنسی تعلقات بنائے۔ خاتون نے اس کی بے ہودہ پیشکش کو سختی سے ٹھُکرا دیا، پاکستانی مینجر نے اس بات کو اپنی توہین خیال کرتے ہوئے اسے نوکری سے نکال دیا۔ خاتون نے نوکری چلے جانے کے بعد باس کے خلاف الرشیدیہ پولیس اسٹیشن میں جنسی ہراسگی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرا دیا تھا۔ متاثرہ خاتون کی جانب سے عدالت میں واٹس ایپ ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں باس کی جانب سے خاتون کو چھونے اور شرمناک حرکات کا اعتراف کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More