The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان کیلئے لائسنس جاری کرنے کاحکمنامہ معطل

14

بدھ ستمبر
21:27

پشاور۔16 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 16 ستمبر2020ء) پشاورہائیکورٹ نے زائدالمعیاد اپیل کے باوجود درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان کیلئے لائسنس جاری کرنے کے سیکرٹری مائن اینڈ منرلز کے حکمنامے کو معطل کردیا اور اس حوالے سے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس قیصر رشیداورجسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے جسٹس ریٹائرڈ عبدالصمد خان کی وساطت سے دائر عدنان خان آفریدی کی رٹ پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے درہ آدم خیل میں کوئلے کی کان کنی کیلئے لائسنس سے متعلق درخواست جمع کی اور تمام لوازمات پورے ہونے کے بعد انہیں لائسنس جاری کیاگیاتاکہ وہاں پر کوئلے کو نکالاجاسکے تاہم اسوقت کے ڈی سی کوہاٹ نے غیرضروری اعتراضات لگاتے ہوئے مختلف رکاوٹیں کھڑی کردیں جس پر انہیں لائسنس کے اجراء میں تاخیر ہوئی اور عدالت عالیہ سے رجوع کیا گیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے تمام کارروائی کے بعد متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ این اوسی کے اجرا کے بعد کسی بھی طور پردرخواست گزار کو لائسنس دینے سے معذوری ظاہر نہیں کرسکتے لہذا انہیں لائسنس دیاجائے مگر اسی دوران ایک دوسرے شخص غلام رسول کو چھ سال زائد المعیاد اپیل پر سیکرٹری مائن اینڈمنرل نے لائسنس جاری کرنے سے متعلق احکامات جاری کردیئے اور اسکی اپیل کو درست قراردیا حالانکہ وہ کسی بھی صورت اس کیلئے نااہل ہے۔ مائن اینڈ منرلز رولز کے تحت اگر آپ لائسنسنگ اتھارٹی کے پاس جائیں اور وہ اپکی اپیل خارج کردے تو اپ ایک دن کی تاخیر کے بغیر ایپلیٹ اتھارٹی جو سیکرٹری مائن اینڈ منرل ڈیویلپمنٹ ہے کے پاس اپیل جمع کرنے کیلئے اہل ہونگے مگر موجودہ حالات میں 2013کی اپیل کو 7سال بعد سنا گیا حالانکہ یہ رولز میں ہے نہ قانون اسکی اجازت دیتی ہے۔ اسکا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ درخواست گزار کاراستہ روکا جائے لہذا سیکرٹری مائن اینڈ منرل کیجانب سے اس قسم کے احکامات کالعدم قراردیئے جائیں اور موجودہ درخواست گزار عدنان آفریدی کولائسنس کے اجراء کے احکامات جاری کئے جائیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد غلام رسول نامی شخص کولائسنس کے اجرائ سے متعلق سیکرٹری مائنز اینڈ منرل کے احکامات معطل کردیئے اور اس سے جواب طلب کرلیا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More