The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ خوش آئند اور بہت بڑا قدم ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا، اور لوٹ مار کے لندن میں محلات بنائے، شاہراہوں … مزید

19

باجوڑ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 28 ستمبر2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ خوش آئند اور بہت بڑا قدم ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا، اور یہاں لوٹ مار کے لندن میں محلات بنائے، شاہراہوں کی تعمیر سے علاقے میںسیاحت اور تجارت کے مواقع بڑھیں گے، باجوڑ کے عوام کو افغانستان میں امن کے مثبت اثرات سے فائدہ ہو گا۔ وہ پیر کو یہاں قبائلی عمایدین سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ 1992 میں پہلی بار اس علاقے میں آئے تھے جب وہ قبائلی علاقوں اور عوام کے بار ے میں کتاب لکھ رہے تھے۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی سیاستدان قبائلی علاقوں کو ان سے زیادہ سمجھتا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام نہ ہوتا تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے، مجھے علاقے کے عوام کی مشکلات کااحساس تھا، روزگار کے لئے قبائلی علاقے کے عوام کو دبئی، سعودی عرب اور کراچی جانا پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ سڑکیں بننے سے رابطے بہتر ہوں گے اور یہ علاقے ملک کے دیگر حصوں سے جڑجائیں گے، تجارت میں بھی آسانی ہوگی اور کار خانے بھی لگیں گے کیونکہ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تک پہنچنا ہی مشکل تھا، ہم قبائلی علاقوں میں تعلیم کو عام کریں گے اور لوگوں کو ہنر سیکھائیں گے تاکہ وہ روزگار کمانے کے لائق ہوسکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے قبائلی عوام ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، انہیں تعلیم کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں جانا پڑتا تھا، ہماری کوشش ہے کہ ان علاقوں کو ترقی دیں اور یہاں بھی سڑکیں بنیں اور کارخانے لگیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے بات چیت جاری ہے، اس کی کامیابی کے مثبت اثرات سے یہاں کے عوام کو بھی فائدہ ہو گا، افغانستان اور وسط ایشیا سے رابطے بہتر ہوں گے اور خوشحالی آئے گی۔ وزیرا عظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پورے صوبے کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ خوش آئند فیصلہ ہے اس سے ان لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات میسرآئیں گی جن کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ملک مقروض حالت میں ملا، سابق حکمران ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل گئے، یہاں لوٹ مار کرکے لندن میں محلات بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت انشورنس بہت بڑی سہولت ہے، امریکا جیسے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں بھی سارے عوام کو ایسی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنایا جائے گا جہا ںکمزور طبقے کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنر اور روزگار کے ذریعے یہاں کے عوام میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر مارکیٹیں بنائی جائیں گی تاکہ سمگلنگ کا خاتمہ ہو اور تجارت کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ رابطے بہتر ہونے سے قبائلی علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی اور دنیا بھر سے لوگ ان علاقوں میں سیاحت کے لئے آئیں گے، سیاحت اور تجارت سے غربت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مہمند تا باجوڑ شاہراہ کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کرے پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More