The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں ہی ملکی ترقی کا راز پوشیدہ ہے، اسد قیصر

19

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 18 اکتوبر2020ء) : اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں ہی ملکی ترقی کا راز پوشیدہ ہے، خواتین کو جدید تعلیم کے لیے سہولیات کی فراہمی موجود حکومت کی اولین ترجیح ہے، کامرس اور میجمنٹ کالج برائے خواتین کے قیام سے ضلع صوابی میں خواتین کو مقامی سطح پر تعلیم کی سہولت میسر ہوں گی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوضلع صوابی کوٹھا میں کالج آف منیجمنٹ سائینسز برائے خواتین کے افتتاح کے موقع پر تقریب کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اسپیکر نے کہا کہ صوابی کی عوام کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کو میں اپنی زندگی کا نصب العین سمجھاتا ہوں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوابی میں کامرس اور مینجمنٹ سائنسز کالج برائے خواتین کے قیام سے خواتین کو تعلیم کے شعبے میں درپیش مشکلات میں کمی آئے گی اور خواتین جدید تعلیم سے آراستہ ہو سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ صوابی میں تعلیم کا انکلاب ائے گا جس سے صوبائی تعلیم کا حب بنے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں عوام کو تعلیم اور صحت کی بہترین سہولت فراہم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور وہ وقت دور نہیں جب موجودہ حکومت ملکی بحرانوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو گی۔اسپیکرقومی نے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے مافیا پر ہاتھ ڈالا تو انہوں نے ملک میں چیزوں کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا۔انہوں نے کہا کہ مافیا اپوزیشن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں ضرورت کے مطابق گندم موجود ہے لیکن چند عناصر نے مصنوعی بحران پیدا کیا ہوا ہے، حکومت کو ان مافیا کا ادراک ہے جنہیں بہت جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا 40سالوں سے حکومت کرنے والوں کے مافیاز سے رابطے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اٹے اور چینی کے کراسسز کو ختم کرنے کے لیے حکومت خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔اسپیکراسد قیصر نے مزید کہا کہ ماضی کی حکومت نے ملک میں تنخواہوں کے لیے پیسے نہیں چھوڑے تھے جس کی وجہ سے موجود حکومت کو مجبوری کے تحت آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بہت جلد رشہ کئی اکنامک زون کا بہت جلد افتتاح کریں گے جس سے صوبہ خیبر پختونخوا میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ رشہ کئی اکنامک زون منصوبہ عوام کی ترقی اور خوشحالی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک اکنامک کاریڈور کے ذریعے وسطی ایشائی ممالک تک کاروبار کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ مشکل دور گزر چکا اپنی خوشحالی عوام کی دہلیز کے بہت قریب ہے۔انہوں نے نوجوان کو روزگار کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں حکومت کو ان کی بے چینی کا مکمل ادراک ہے اب وقت آگیا ہے کہ نوجوانوں کے مسائل کو حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ رشہ کئی اکنامک زون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع میسر آئیں کے جن سے ہمارے ملک کے نوجوان مستفید ہونگے۔اسپیکر نے افغانستان کے ساتھ تجارت حجم میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے قومی اسمبلی کے زیر اہتمام افغانستان کے ساتھ تجارت اور ٹزاٹ ٹریڈ کو بڑھانے کے لیے دو روزہ خصوصی سیمینار منعقد کیا جائے گا جس کا مقصد افغانستان کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے تاجر برادری میں اعتماد سازی کو مزید بہتر بنانا ہے۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ حکومت کو مسائل سے گھیرا ہوا ملک ورثے میں ملا 40سالوں سے بگڑے ہوئے ملکی مسائل کو دو سالوں میں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پہلے ماضی کا حساب دینا ہو گا پھر موجود حکومت سے پانچ سال پورے ہونے پر حساب مانگنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ موجود حالات میں ملک سیاسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ملکی مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کے ساتھ چلنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ موجود حکومت نے جب ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو ملک تاریخ کے سنگین بحرانوں سے گزر رہا تھا، پہلے دو سال مشکل حالات سے گزرے ہیں اب ملک ترقی کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے تعلیم و اطلاعات کامران بمگش، صوابی ممبر اسمبلی عاقب اللہ خان محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سمیت کامرس و مینجمنٹ سائنسز کالج کی پرنسپل اور عملے کے دیگر افراد بھی شرکت تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More