The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

حکومت نے اپنے بل منظور کروانے کیلئے غیرآئینی طریقہ اختیار کیا … قومی اسمبلی اور سینیٹ آج کے اجلاس میں اس لئے شریک ہوئے کہ ملک کے متعلق اہم قانون سازی میں اپنی رائے دے … مزید

7

قومی اسمبلی اور سینیٹ آج کے اجلاس میں اس لئے شریک ہوئے کہ ملک کے متعلق اہم قانون سازی میں اپنی رائے دے سکیں: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری

Hassan Shabbir حسن شبیر
بدھ ستمبر
21:00

اسلام آباد (اردو پوائنٹ- اخبارتازہ ترین 16 ستمبر2020ء) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج حکومت نے جو قانون سازی کی ہے اس میں غیرآئینی طریقہ اختیار کیا گیا۔ حزب اختلاف شہباز شریف اور اپوزیشن کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈران کے ساتھ قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے دور دراز کے علاقوں سے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ آج کے اجلاس میں اس لئے شریک ہوئے کہ وہ چاہتے تھے کہ ملک کے متعلق اہم قانون سازی میں اپنی رائے دے سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ حکومت نے اپنے بل پاس کرنے کے لئے غیرآئینی طریقہ استعمال کیا۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کا کوئی مشیر پارلیمنٹ میں بل نہیں پیش کر سکتا۔

(جاری ہے)

ایسا کرنا غیرقانون اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قائد حزبِ اختلاف جس وقت چاہے خطاب کرسکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے پہلے فیٹف کی قانون سازی میں حکومت کی مدد کرنے کے لئے ترامیم پیش کی تھیں۔ اب حکومت نے مختلف بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر دئیے ہیں جن کے بعد اب کسی بھی پاکستانی کو پولیس بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر بے تحاشہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس غیرجمہوری رویے کا مظاہرہ آج حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے ایسا کبھی جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف جیسے ڈکٹیٹروں کے دور میں بھی نہیں کیا گیا۔پارلیمان کی کاروائی غیرآئینی تھی،وزیراعظم کے مشیر کے بارے میں حزب اختلاف کی رائے درست تھی جس کو کسی خاطر میں نہیں لیا گیا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More