The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرے گی،عبدالحفیظ شیخ … جی آئی ڈی سی کے معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق خوش اسلوبی سے حل کرلیا جائے گا،مشیر خزانہ … مزید

11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے او ورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک انٹرایکٹیو میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس موقع پرمشیرِ خزانہ نے گزشتہ 2سالوں میں معیشت کو درپیش چیلنجز اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات جن کی بدولت ملکی معیشت اب بحالی کی راہ پر گامزن ہے کے بارے میں بریفنگ دی۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہاکہ سیمنٹ، آٹو موبائل اور کھادسمیت کچھ صنعتوں میں نمو اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان حوصلہ افزا ہے جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنا چاہیے۔اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے صدر ہارون رشید نے مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کا استقبال کیا اور انہیں ملکی معیشت میں او آئی سی سی آئی اور اس کے ممبران کے اہم کردار کے بارے میں بتایا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ہارون رشید نے کہاکہ ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر اور کچھ دیگر مسائل ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں رکاوٹ ہیں جوکہ حکومت کے ایز آف ڈوئنگ بزنس ایجنڈے سے بھی مواقف نہیں ہیں۔اس موقع پر ملک میں کام کرنے والے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والے شرکا نے معیشت کو درپیش کووِڈ 19 (Covid 19) کے چیلنج کو کامیابی سے قابو کرنے اور پاکستانی عوام کی صحت کیلئے بہترین اقدامات کرنے پر حکومتی کوششوں کو سراہا۔ او آئی سی سی آئی ممبران نے بجٹ2020-21کے دوران مثبت کردار ادا کرنے پر مشیرِ خزانہ کی کوششوں کو سراہا جن میں 1600سے زائداشیا کی ٹیرف ریشنلائزیشن، امپورٹ اسٹیج پر ودہولڈنگ ٹیکسز کی ریشنلائزیشن اور بہت سے دیگر اقدامات جوکاروبار کرنے میں آسانی معاون ثابت ہورہے ہیں۔ او آئی سی سی آئی نے حکومت کی جانب سے بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے روشن ڈیجیٹل اکانٹ متعارف کرانے کو درست سمت میں قدم قراردیا۔تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ٹرن اوور کی بلند شرح خاص طورپر ہائی ٹرن اوور اور کم مارجن والے سیکٹرز جیسے پٹرولیم اور کیمیکل کے شعبوں پرتشویش کا اظہارکیا۔ او آئی سی سی آئی ممبران نے لاہور، سیالکوٹ رنگ روڈ پر ہونے والے واقعے پر بھی تشویش کااظہار کیاجس سے پاکستان میں سیکیوریٹی کے بہتر ماحول سے مطمئن اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔او آئی سی سی آئی کے صدر ہارون رشیدنے کہاکہ حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات پر مجموعی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے آپریٹنگ امور کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنے کیلئے فوکل وزارت کی تجویز بھی دی۔او آئی سی سی آئی نے پر زور سفارش کی کہ حکومتِ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی مراعات (مثال کے طورپر نئی سرمایہ کاری ک لئے آئی ٹی آرڈیننس 2001کی دفعہ 65کے تحت دی گئی مراعت) کو واپس نہیں لے گی کیونکہ متعلقہ منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔ او آئی سی سی آئی نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ٹیکس ریفنڈز اور گرشی قرضوں کے باقاعدہ اور فوری حل کی بھی درخواست کی۔او آئی سی سی آئی کے ممبران پر امید ہیں کہ مستقل اور شفاف پالیسی فریم ورک اور اسکے نفاذ کو یقینی بناکر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتاہے۔ اس موقع پر شرکا نے مشیرِ خزانہ سے حال ہی میں حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلان جس کے تحت2022کے بعد قوم بچت اسکیم ریٹائرمنٹ فنڈز کیلئے دستیاب نہیں ہوگی پر نظرِ ثانی کامطالبہ کیا۔اس موقع پر شرکا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مشیرِ خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ جی آئی ڈی سی کے معاملے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق خوش اسلوبی سے حل کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آرکو مزید فعال کیا جائے گا اورتمام اہم امور خاص طوپر ٹیکس ریفنڈزجیسے مسائل حل کرنے کیلئے باقاعدگی کے ساتھ او آئی سی سی آئی جیسے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More