The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

حقوق کراچی تحریک و مارچ کراچی کے جائز اور قانونی حق کے لیے ہے ، جماعت اسلامی … جماعت اسلامی شہر کی بڑی اسٹیک ہولڈرہے ،کراچی کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے ، ڈاکٹر اسامہ رضی … مزید

9

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) جماعت اسلامی کراچی کی میڈیا کمیٹی کا اجلاس ادارہ نور حق میں کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر اسامہ رضی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں بارش سے قبل اور بعد شہر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور عوام کو درپیش مشکلات و پریشانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی ، صوبائی اوربلدیاتی حکومت کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کی گئی ۔اجلاس میں کراچی کی بحالی کے لیے اعلان کیے گئے 1113ارب روپے کے پیکیج پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے طے شدہ حصوں کے بارے میں متضاد دعوے ، پوائنٹ اسکورنگ اور سیاست بازی کی بھی مذمت کی ۔ اجلاس میں کراچی کے ساتھ حکمران طبقوں کی مسلسل نا انصافیوں اور حکومتوں کی مجرمانہ غفلت و غیر سنجیدگی کے خلاف اور کراچی کے عوام کو ان کے جائز ، قانونی اور آئینی حقوق کی فراہمی کے لیے جاری ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ اور 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ہونے و الے عظیم الشان اور تاریخی ’’حقوق کراچی مارچ‘‘ کی تیاریوں اور انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے اور اقدامات طے کیے گئے ۔

(جاری ہے)

مارچ میں شہر بھر سے بچے ، بوڑھے ، جوان ، خواتین ، تاجر ، طلبہ و اساتذہ ، علماء کرام اور وکلاء سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد بہت بڑی تعداد میں شریک ہوں گے ۔ مارچ سے قبل جے آئی یوتھ کے تحت 19ستمبر کو شاہراہ قائدین سے طارق روڈ اور بہادر آباد تک ریلی نکالی جائے گی ۔ 23ستمبر کو ’’حقوق کراچی اور ہماری جدو جہد ‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا ۔ حافظ نعیم الرحمن ہر ضلع کا دورہ کریں گے اور عوامی رابطہ مہم میں شریک ہو کر عام شہریوں اور تاجروں سمیت مختلف شعبہ زندگی کے افراد کو مارچ میں شرکت کی دعوت دیںگے ۔ سینکڑوں کارنر میٹنگز ہوں گی عوامی مسائل پر کنونشن بھی منعقد کیے جائیں گے،مارچ کی پبلیسٹی اور عوام کو دعوت دینے کے لیے شہر بھر میں کیمپ لگائے جائیں گے ، ہینڈ بلز تقسیم کیے جائیں گے اور بینرز اور ہورڈنگز بھی لگائی جائیں گی ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی شہر کی بڑی اسٹیک ہولڈرہے ،کراچی کے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔مون سون کی بارشوں سے قبل بھی کراچی کے عوام بے شمار مسائل کا شکار تھے ، شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں ۔ ٹوٹی پھوٹی بسیں ، کوچز اور چنگجی رکشوں کے سوا عوام کے لیے کچھ نہیں ، گرین لائین ، ریٖڈ لائین ،سرکلر ریلوے اور ماس ٹرانزٹ صرف اعلانات اور دعووں کی حد تک ہیں ۔ حکومت کا کوئی ادارہ نہیں جو شہریوں کو سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کر سکے ۔ صحت ، تعلیم اور پانی جیسی بنیادی ضرورت عوام کو میسر نہیں ، نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور میں پانی کے لیے k-3کا منصوبہ مکمل کر کے k-4کا پروجیکٹ شروع کیا گیا لیکن بد قسمتی سے ان کے بعد آنے والی سٹی حکومت اور صوبائی حکومت نے اس کی تکمیل کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا اور یہ منصوبہ آج بھی زیر التواء ہے ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ بارشوں کے بعد شہر میں صورتحال اور زیادہ ابتر ہو گئی اور حالات کی سنگینی نے وفاقی و صوبائی حکومتوں ، اعلیٰ اداروں اور حکمران پارٹیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ ملک کے قومی خزانے میں تقریباً 70فیصد ریونیو دینے والے شہر کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ کئی روز تک اس حوالے سے بڑی خبریں اور شہ سرخیاں سننے کوملتی اور شائع ہو تی رہیں اور وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ سندھ اور کئی وفاقی وزراء کے ہمراہ کراچی کے لیے 1113ارب روپے کے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا لیکن اس اعلان کے ساتھ ہی اس پیکیج پر بھی سیاست بازی اور پوائنٹ اسکورنگ شروع کر دی گئی اور اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ اب 10دن سے زیادہ ہو گئے ہیں اور اس پیکیج پر تاحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ ان حالات میں ہم ہر گز خاموش نہیں رہیں گے اور ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے رہیں گے اور کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دلوانے کی جدو جہد جاری رہے گی ۔ مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ کراچی میں ایک با اختیار شہری حکومت ہو اس کے لیے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور ترقیاتی کاموں کا فی الفور آغاز کیا جائے ۔علاوہ ازیں وسائل کی درست تقسیم ، ترقیاتی کاموں کے لیے ضروری ہے کہ کراچی کی مردم شماری کو درست کیا جائے ، کراچی تین کروڑ سے زائد کا شہر بن گیا ہے لیکن اس کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ ظاہر کی جا رہی ہے جو درست نہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More