The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

جڑانوالہ میں غربت سے تنگ میاں بیوی نے مبینہ طور پر خود کشی کرلی … چک 240 کے رہائشی شہباز مسیح اور تبیتا کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی

9

چک 240 کے رہائشی شہباز مسیح اور تبیتا کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی

Sajid Ali ساجد علی
جمعرات ستمبر
15:53

جڑانوالہ میں غربت سے تنگ میاں بیوی نے مبینہ طور پر خود کشی کرلی
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 ستمبر2020ء) فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے نواحی علاقے چک 240 میں غربت سے تنگ میاں بیوی نے مبینہ طور پر خود کشی کرلی ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق شہباز مسیح اور تبیتا کی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی ، جس کے بعد سے ان کے گھریلو حالات غربت کی وجہ خراب تھے جس سے تنگ میاں بیوی نے مبینہ طور پر خود کشی کرلی ، جس کیلئے انہوں نے زہریلی گولیاں کھالیں جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی تو دونوں میاں بیوی کو الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہیں ہو سکے اور ہسپتال میں دم توڑ گئے ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جہاں غربت کی وجہ سے گھر اجڑ گئے۔ کچھ عرصہ قبل کراچی میں اس نوعیت کا ایک واقعہ پیش آ یا تھا جس میں ایک شخص نے صرف اس لئے خودکشی کر لی تھی کیونکہ وہ اپنے بچوں کی گرم کپڑوں کی خواہش پوری نہیں کر سکتا تھا۔

(جاری ہے)

اس شخص نے خودکشی کرنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کے نام خط بھی لکھا تھا کہ میرے بچوں کی خواہشات اگر ممکن ہوں تو پوری کر دی جائیں۔

اس شخص نے خود کو قبرستان میں جا کر آگ لگا لی تھی جس کے بعد موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا۔ علاوہ ازیں پاکپتن میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک ماں نے غربت اور گھریلو ناچاکی سے تنگ آ کر اپنے تین بچوں کا گلہ دبا کر خودکشی کر لی۔ خاتون کا نام شاہین بی بی بتایا گیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ وقت سے غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھی، غریبی کی وجہ سے اکثر گھر کا ماحول بھی خراب رہتا تھا، انہی مشکلات میں گھری ہوئی شاہینہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو بھی مار دے گی اور خود بھی خودکشی کر لے گی۔ ایک اور واقعے میں منڈی فیض آباد کے قریب گھریلو حالات سے تنگ میاں بیوی نے تین بیٹیوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی۔ریسکیو حکام کے مطابق میاں بیوی نے خاندان میں غربت سے تنگ آکر موت کو گلے لگا لیا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More