The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

جنا ح انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’’کشمیر کا مستقبل ، کثیر الاقوامی نظام اور علاقائی امن‘‘ کے موضوع پر ویبینار … کشمیر کو بین الاقوامی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس مسئلہ پر … مزید

12

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 13 ستمبر2020ء) جنا ح انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’’کشمیر کا مستقبل ، کثیر الاقوامی نظام اور علاقائی امن‘‘ کے موضوع پر ہونے والی ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ اینڈریو گیوین نے کہا ہے کہ کشمیر کو بین الاقوامی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس مسئلہ پر برطانوی شہریوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامی کونسل کے ممبر کی حیثیت سے ان کے ملک کا اس حوالے سے مثبت کر دار ہے ، ویبی نار کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا دو ایٹمی ممالک کے تنازعہ کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی جیمس ڈیلی نے مظلوم کشمیریوں کی خود ارادیت کے ناقابل تسخیر حق کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

(جاری ہے)

انہوں نے دیگر قانون سازوں کے ساتھ ، فروری 2020 میں آزاد جموں وکشمیر کے دورے کا ذکر کیا ، جہاں ان کے وفد کو شہریوں کے ساتھ ہر سطح پر بات چیت کے لئے آزادانہ رسائی فراہم کی گئی تھی ، تاکہ زمینی صورتحال معلوم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ، ہمارے گروپ کو ہندوستان نہیں جانے دیا گیا ، اور ہم آزادانہ طور پر بھارتی حکومت کے ساتھ بات نہیں کرسکے‘‘۔معروف کشمیری صحافی افتخار گیلانی نے ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اکثریتی ریاست کے خلاف بی جے پی کے ہندوتوا حملے کے ذریعہ کشمیری تاریخ ، ثقافت اور زبان کو مٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لاک ڈاؤن اور رابطے کی خرابی کی وجہ سے معیشت اور مقامی صنعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی وجہ سے معاشرتی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہاہے۔بی جے پی کے سابق سیاستدان سدھیندرا کلکرنی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل370 کو منسوخ کرنا غیر آئینی اور غیر منصفانہ تھا ۔جرمنی کے رکن پارلیمنٹ مائیکل گہلر نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ماضی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن آگے بڑھنے اور چیلنج کو حل کرنے کا طریقہ وضح کرنے کے لیے غیر جانبدار مبصرین کو معلومات اکٹھا کرنے اور بین الاقوامی برادری کو رپورٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی ہندوستان تک محدود رسائی ہے ۔ویبی نار میں سابق ممبر پارلیمنٹ جولی وارڈ کے علاوہ اسلامک یونیورسٹی کشمیر کے پروفیسر صدیق واحد نے بھی شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More