The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

جماعت اسلامی کا حفیظ سنٹر میں آگ کے باعث کروڑوں روپوں کے نقصان پر اظہار افسوس … حکومت متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرے، ایمرجنسی ریسپانس کو بہتر بنایا جائے‘امیر … مزید

17

حکومت متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کرے، ایمرجنسی ریسپانس کو بہتر بنایا جائے‘امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب

اتوار اکتوبر
15:25

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے لاہور میں حفیظ سنٹر پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگنے والی آگ کے باعث کروڑوں روپوں کی املاک کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں جماعت اسلامی متاثرہ تاجر برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت متاثرین کی مالی امداد کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امدادی سرگرمیاں بروقت شروع کردی جاتیں تو اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ مجرمانہ غفلت کے باعث پورا حفیظ سنٹر خاکستر ہوگیا ہے۔ لو گ اپنی مدد آپ کے تحت سامان کو حفاظتی مقامات پر پہنچاتے رہے۔ فائر بریگیڈ کو جدید خطوط پر از سر نو استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل آگ لگنے کے متعدد ایسے واقعات ہوچکے ہیں مگر ہر واقعے کے بعد حکومت صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتی چلی آرہی ہے۔

گزشتہ 6برسوںمیں لاہور میں آگ لگنے کے 37ہزار 478واقعات رونما ہوچکے ہیں جبکہ پورے صوبے میں ان کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار پانچ سو ستر سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مالک سب کچھ قدرت کے رحم وکرم پر ہے ۔ حکمران ہر سطح پر ناکام ہوچکے ہیں۔ شارٹ سرکٹ کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ ادارے اگر اپنا کام صحیح طریقے سے کریں تو بہتر ی آسکتی ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ تاریخ کے نااہل ترین حکمران قوم پر مسلط ہوچکے ہیں ، ان کے پاس معاشی وژن ہے نہ ہی ملک و قوم کی خدمت کرنے کی صلاحیت۔ ریسکیو کے تمام شعبوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر بدقسمتی سے حکمرانوں کی ساری توجہ انتظامی سیاست کے گرد گھومتی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More