The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

جماعت اسلامی نے جنسی زیادتی کے ملزمان کو نامرد بنانے کی مخالفت کر دی … جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو نامرد بنانا مسئلے کا حل نہیں، شریعت کے مطابق قانون سازی کریں اور عمل … مزید

17


Live Updates

جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو نامرد بنانا مسئلے کا حل نہیں، شریعت کے مطابق قانون سازی کریں اور عمل درآمد کریں، ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دیں یا سنگسار کریں: ایم این اے مولانا عبدلاکبر چترالی

منگل ستمبر
23:00

جماعت اسلامی نے جنسی زیادتی کے ملزمان کو نامرد بنانے کی مخالفت کر دی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 ستمبر2020ء) رکن اسمبلی
مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ موٹر وے پر بحث
میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جنسی زیادتی میں ملوث افراد کو نامرد بنانا مسئلے
کا حل نہیں اگر کوئی عورت مرد کے ساتھ زیادتی کرے تو اس کا کیا کریں گی
شادی شدہ مرد اور عورت زنا کرتے پائے گئے تو کیا کریں گی شریعت کے مطابق
قانون سازی کریں اور عمل درآمد کریں ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دیں یا
سنگسار کریں انہوں نے کہا کہ جنرل ضیائ کے دور میں ایسے مجرم کو پھانسی دی
گئی دس سال تک جرم نہیں ہوا ہر ضلع میں شرعی عدالت بنائیں ججز اور علمائ
کو پابند بنائیں کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کریں پیپلز پارٹی کے رہنما و
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف.نے کہا کہ ہمارا سسٹم باوجود اس احتجاج کے
نتائج نہیں دے سکے گاہمارے ملک میں سزا اور جزا کا نظام انصاف فراہم نہیں
کر رہاہمارا نظام ایسا ہے مجرم کی سزا سے پہلے مظلوم سزا بھگت چکا ہوتا
ہیہمارے ہاں بیشمار مقدمات ایسے ہیں جو منطقی انجام تک نہیں پہنچتے انہوں
نے کہا کہ اس کیس کے مجرم کو عبرت ناک سزا ملنی چاہییآج کوئی تفریق نہیں
پورا ملک سراپا احتجاج ہیوفاقی وزیر، زرتاج گل نے کہا کہ لاہور واقعہ کو
سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا گیامتاثرہ خاتون کے سر پر ہاتھ
رکھنے کی بجائے زیادتی کی گئی یہاں پر بحث کی گئی کہ موٹروے کس نے بنایا
تھااگر خواتین نے انسانوں کو دیکھ کر راستے بدلنے ہیں تو انسانوں اور
جانوروں میں کیا فرق رہ گیا انہوں نے کہا کہ ہم بار بار جرم اس لیے کررہے
ہیں کیونکہ پکڑ نہیں ہورہی ہیپارلیمنٹ میں خواتین کو برے القابات سے پکارا
جاتا ہیپارلیمنٹ میں خواتین کو ٹریکٹر ٹرالی اور وربل ڈائری کہا جاتا
ہیخواتین کی ویڈیوز بنا کر انکو بلیک میل کیا جاتا ہیہمیں پارلیمنٹ میں
قانون میں سقم پر بات کرنی ہے کہ ایسے کیسز رکیں انہوں نے کہا کہ کمیٹی
بنائی جائے جو فیصلہ کرے کہ کیسے شرعی قوانین کو آگے لیکر جانا ہیمتاثرہ
خواتین اور بچوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جانا چاہییہمیں ملک میں شعور
بیداری مہم چلانا ہوگی آئی ایس پی آر کی طرح پولیس میں بھی ترجمان مقرر
کیا جائے جو پالیسی بیان دے

(جاری ہے)



موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More