The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

جامعہ کراچی، سابق صدر شعبہ فارسی ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی کی یاد میں تعزیتی اجلاس

11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 15 ستمبر2020ء) چیئرمین شعبہ فارسی ڈاکٹر رمضان بامری نے کہاکہ ڈاکٹرساجد اللہ تفہیمی شعبہ فارسی کے طلبا و اساتذہ کی رہنمائی میں ہمہ وقت مصرف رہتے تھے۔ ان کا انتقال علمی حلقوں اوربالخصوص زبان و ادبیات فارسی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ڈاکٹر رمضان بامری نے اپنے زمانہ طالب علمی کو یادکرتے ہوئے کہا کہ جب ہم یہاں بلوچستان سے آئے تھے تو ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی نے ہمیں حوصلہ دیا اور کہا کہ علم کسی کی میراث نہیں ہے جو کوشش کرے گا وہ اس میں مقام پائے گا،یقینا یہ ان کی تعلیم وتربیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہماری صلاحیتیں نمایاں ہوکر سامنے آئیں ہیں۔وہ ہرعقیدے ،مذہب اور علاقہ سے بالاتر تھے میں نے ان کو قریب سے دیکھا ہے وہ ہرچیز کو اللہ پر چھوڑنے کی تلقین کرتے تھے۔

(جاری ہے)

وہ ایک بہترین محقق تھے ،وہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں جہاں جہاں لوگ فارسی سے شفقت اور ذوق وشوق رکھتے تھے،ان کی رہنمائی کرتے تھے۔فارسی کی ترویج کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ہمیں ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ فارسی کے زیر اہتمام شعبہ فارسی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر ساجداللہ تفہیمی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابقہ رئیسہ کلیہ فنون وسماجی علوم پروفیسر طاہرہ صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی بہت شفیق اور بااصول انسان تھے کبھی کسی سے ڈانٹ کر بات نہیں کرتے تھے ۔انہوں نے اپنی ساری زندگی تحقیق میں گذاری ،انہوں نے اپنے لئے کچھ نہیں رکھا سب دوسروں کے حوالے کردیا اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ انسان آخری وقت تک ریسرچ کروائے اور سکھائے اور دوسروں کے حوالے کردے ۔ان کی منکسرالمزاجی کا یہ عالم تھا کہ وہ کبھی بھی کسی کی شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ ہمہ وقت اپنی تحقیق میں مصروف رہتے تھے۔پروفیسر ڈاکٹر شکیل الرحمن فاروقی نے کہاکہ پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی کی رحلت اہل علم کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی فارسی زبان کے ماہرمعلم اور محقق تھے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو ابھی تک فارسی زبان کی ترقی اور ترویج کے لئے سرگرم عمل تھے۔میں نہیں سمجھتا کہ ڈاکٹر صاحب کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر ہوسکے گا۔ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی فارسی علم وادب میں ایک درخشاں مثال تھے ،میں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کے ساتھ اعتکاف کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔شعبہ فارسی جامعہ کراچی کے استاد ڈاکٹر نذیر بسیپا نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی کی شخصیت کسی تعریف کی محتاج نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحب ایک اعلیٰ منتظم تھے جو دورجدید کی تما م ٹیکنالوجیز کو بخوبی استعمال کرتے تھے۔اتنی علمی ،ادبی وتحقیقی کاوشیں ہونے کے باوجود ان کو صدارتی ایوارڈ سے کیوں نہیں نوازاگیا۔ڈاکٹر شہلاسلیم نوری نے کہا کہ ڈاکٹر تفہیمی کی مثال ایک کنوے جیسی ہے،جیسے ہر پیاسااپنی پیاس کے مطابق وہاں جاتاہے اور اپنی تشنگی کوپورا کرتاہے ۔ ہرشخص اپنے ظرف کے مطابق وہاں سے فیض پاتاہے ۔ان کی نظر میں گہرائی اور گیرائی اس قدر تھی کہ ایک نظر میں تمام چیزیں بغور دیکھ لیتے تھے۔ڈاکٹر صاحب وقت کے پابند ،انتظامی امور کے ماہر اور علم وتحقیق پر مکمل عبور رکھتے تھے ،علامہ اقبال پران کی گہری نظر تھی۔ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی کے صاحبزادے ماجد اللہ تفہیمی نے کہا کہ میرے والد کی شخصیت کا ہر پہلو مجھے مکمل نظر آیا ،جومشفقانہ رویہ انہوں نے ہمارے ساتھ رکھا اس کی مثال نہیں ملتی ،انہوں نے ہمیں نہ صرف پڑھایا بلکہ چیزوں کی تصویر کشی کرکے ہمارے ذہنوں میں بٹھایا۔اجلاس سے ڈاکٹر فائزہ زہرہ مرزا،فائزہ خاتون،ڈاکٹر جعفر حلیم اور دیگر نے خطاب کیا۔اجلاس میں شعبہ فارسی کے تمام اساتذہ بشمول سابق صدورشعبہ اور ساجداللہ تفہیمی کی فیملی نے بھی شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More