The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

تہرے قتل سے متعلق کیس ،سپریم کورٹ نے ملزمان کو گرفتار کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی … عدالت نے ملزمان کے سر کی قیمت مقرر نہ ہونے پر سندھ حکومت سے جواب اور آئندہ سماعت … مزید

6

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 17 ستمبر2020ء) سندھ کی تحصیل میہڑ میں تہرے قتل سے متعلق کیس میںسپریم کورٹ نے ملزمان کو گرفتار کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔ جمعرات کو جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار ارباب چانڈیو نے کہاکہ دو فرار ملزمان میں سے ایک کے سر کی قیمت نہیں رکھی گئی،پولیس برائے نام تفتیش کررہی ہے صرف پیپر ورک کیا جا رہا ہے۔ڈی آئی جی نعیم شیخ نے کہاکہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں کررہی ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ڈھائی سال سے ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ اگر آئندہ سماعت سے پہلے ملزمان گرفتاد نہ ہوئے تو حکم میں لکھ دینگے کہ آپ اس عہدے کے قابل نہیں۔

(جاری ہے)

جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ عدالت میں کیس کی فائل کیوں نہیں لائے نہ ضمنی لائے۔

ڈی آئی جی نعیم شیخ نے کہاکہ کیس کی فائل متعلقہ تفتیشی کے پاس ہے۔دوران سماعت ایس ایس پی کی جناب سے بات کرنے پر عدالت برہم ہوگئی ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ جب آپ کے سینیئر موجود ہیں تو آپ کیوں بات کررہے ہیں،آپ اسلام آباد تفریح کرنے آئے ہیں۔ عدالت نے کہاکہ پولیس جان بوجھ کر ملزمان کی گرفتاری میں غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے عملی طور پر کیا اقدامات کیی ۔ ڈی آئی جی حیدر آباد نے کہاکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ پولیس ڈائری سے دکھائیں کب کہاں چھاپا مارا ۔ ڈی آئی جی نے کہاکہ پولیس ریکارڈ میرے پاس نہیں ہے ۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ ریکارڈ کیوں نہیں لائی کیا آپکو دعوت کیلئے عدالت بلایا گیا تھا ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ پولیس رپورٹ میں صرف کہانیاں لکھی ہیں ان سے آپ بچ نہیں سکتے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر انقوی نے کہاکہ آپکو علم ہی نہیں کہ پولیس رپورٹ میں لکھا کیا ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ مفرور ملزمان کے اثاثے منجمد کر لیے۔ ام رباب چانڈیو نے کہاکہ جس ایس ایچ او نے اپنی موجودگی میں قتل کرائے وہ عہدے پر بحال ہوچکا، پولیس نے ایس ایچ او کو شامل تفتیش ہی نہیں کیا۔ انہوںنے کہاکہ مفرور ملزمان کے سر کی قیمت بھی تاحال مقرر نہیں کی گئی۔ عدالت نے ملزمان کے سر کی قیمت مقرر نہ ہونے پر سندھ حکومت سے جواب اور آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو طلب کر لیا ۔ڈی آئی جی حیدرآباد پولیس کو تفتیش کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔بعد ازاں سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More