The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

تھانہ گجرپورہ پولیس نے موٹروے پر اپنی حدود کے تعین کا بورڈ آویزاں کردیا … خاتون سے زیادتی کا واقعہ تھانہ گجرپورہ کی حدود میں پیش آیا، مظلوم خاتون کی کال پر پولیس نے کہا … مزید

17

لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 ستمبر2020ء) لاہور لنک روڈ پر خاتون زیادتی واقعے کے بعد تھانہ گجرپورہ پولیس نے اپنی حدود کے تعین کا بورڈ آویزاں کردیا، خاتون سے زیادتی کا واقعہ تھانہ گجرپورہ کی حدود میں پیش آیا، مظلوم خاتون کی کال پر پولیس نے کہا یہ ہماری حدود نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق لنک روڈ پر خاتون سے زیادتی کے 4 روز بعد پولیس کو موٹروے پر حدود کے تعین کا خیال آگیا ہے۔ گجرپورہ پولیس نے موٹروے پر اپنی حدود کے تعین کیلئے آغاز حدود سے اختتام حدود کا بورڈ آویزاں کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ بھی تھانہ گجرپورہ کی حدود میں پیش آیا تھا۔ جب ایک خاتون کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا تو خاتون نے پولیس کو کال کی، لیکن پولیس نے خاتون کی کال پر کوئی ایکشن نہیں لیا، بلکہ کہا کہ یہ ہماری حدود نہیں ہے۔

(جاری ہے)

جس پر وہاں ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا، بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور لوٹ مار کرکے فرار ہوگئے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں نے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اس کے ڈی این اے میچ ہوجانے کے ذریعے سے شناخت کرلی ہے۔ جس پر پولیس نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تو ملزم اپنی بیوی سمیت فرار ہوگیا ہے۔ جبکہ ملزم کا ساتھی وقار الحسن نے خود گرفتاری دے دی ہے اور وقار الحسن کا کہنا ہے کہ اس کا زیادتی کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملزم وقارالحسن شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، میرا سالہ عباس عابد علی کے ساتھ مل کر وارداتیں کرتا تھا تاہم اس نے پولیس کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم وقارالحسن شاہ کا تعلق شیخوپورہ کے علاقے قلعہ ستار شاہ سے ہے ۔ واضح رہے کہ موٹر وے زیادتی کیس میں مرکزی ملزم عابد علی ہے جبکہ دوسرے ملزم کی شناخت وقارالحسن شاہ کے نام سے ہوئی جو کہ چھانگا مانگا کا رہائشی ہے ، اس سے پہلے شناخت ہونے والا ملزم عابدعلی اور دوسرا ملزم وقارالحسن شاہ دونوں دوست ہیں جو اکٹھے رہتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More