The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ترکی کے ساتھ تنازعہ، یونان طاقتور ہتھیار خریدے گا … ترکی کیساتھ سمجھوتہ نہیں ہوتا تو بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے،یونانی وزیراعظم

4

ترکی کیساتھ سمجھوتہ نہیں ہوتا تو بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے،یونانی وزیراعظم

پیر ستمبر
13:44

ترکی کے ساتھ تنازعہ، یونان طاقتور ہتھیار خریدے گا
ایتھنز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 14 ستمبر2020ء) یونانی وزیر اعظم کریاکوس مٹسوٹاکِس نے کہا ہے کہ ملکی فوج کو جدید بنانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کی خاطر ایتھنز حکومت جدید اور طاقتور ہتھیار خریدے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مٹسوٹاکِس نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا، جب بحیرہ روم کے متنازعہ پانیوں میں قدرتی وسائل کے حصول کی خاطر ترکی یونان کے درمیان تنا موجود ہے۔یونانی وزیر اعظم نے شمالی شہر تھسالونکی میں ایک عوامی خطاب میں کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی فوج کی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جامع پروگرام کے تحت ملکی دفاع کو مضبوط بنایا جائے گا۔وزیر اعظم مٹسوٹاکِس نے کہا کہ ان کی حکومت اٹھارہ فرانسیسی رافائل جیٹ طیارے، چار جنگی بحری جہاز اور چار نیوی ہیلی کاپٹر خریدے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پندرہ ہزار نئے فوجی بھی بھرتی کیے جائیں گے جبکہ سائبر حملوں کی روکنے کی خاطر سرمایہ کاری کی جائے گی۔وزیر اعظم مٹسوٹاکِس کے مطابق ملکی فوجی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایںٹی ٹینک ہتھیار، بحری تارپیڈوز اور ایئر فورس کے لیے میزائلز بھی حاصل کیے جائیں گے۔یونانی وزیر اعظم کریاکوس مٹسوٹاکِس نے کہاکہ ہمیں مذاکرات کی ضرورت ہے لیکن گن پوائنٹ پر ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا تو اس تنازعے کے خاتمے کے لیے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے یونان اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ کسی محاز آرائی کے بجائے سفارتی حل تلاش کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے اتحادی ممالک کے مابین اس طرح تنازعے سے صرف دشمن عناصر کو ہی فائدہ ہو گا۔

متعلقہ عنوان :

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More