The Pakistan Post
Daily News Publishing Portal

ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلہ تاریخی سطح پر … دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر مواقع موجود ہیں،اسرائیل،ترک کاروباری کونسل

12

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 18 اکتوبر2020ء) ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات سرد مہری کا شکار تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا، ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم غیر معمولی طور پر 6 ارب ڈالر سے زیادہ پر پہنچ گیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلے کی تاریخی سطح ہے۔ماضی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کو ترکی کے مقابل تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے ، ما سوا 2013 اور 2014 کے جب اسرائیل کو تجارتی آمدنی میں تھوڑا بہت اضافہ میسر آیا۔اس کے بعد سے ترکی کی جانب سے برآمدات کا حجم اسرائیل سے آنے والی درآمدات کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رہا۔

(جاری ہے)

سال 2018 میں ترکی اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 6.2 ارب ڈالر رہا۔

اگلے سال 2019 میں اس میں کچھ کمی واقع ہوئی اور اس کی قیمت 5.5 ارب ڈالر رہی۔ یہ اعداد و شمار بین الاقوامی تجارتی مرکز کی جانب سے جاری کیے گئے جس کا صدر دفتر جنیوا میں ہے۔ یہ مرکز اقوام متحدہ اور عالمی تجارت کی تنظیم کے درمیان ایک مشترکہ ایجنسی ہے۔اس وقت ترکی اسرائیل کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسرائیلی ترکی کاروباری کونسل کے سابق صدر میناشے کارمن کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب ہیں، ان کے نرخ مناسب ہیں، مصنوعات کی جلد فراہمی کی اجازت ہے اور دونوں ممالک اعلی معیار کی اشیا مہیا کرتے ہیں۔ تاہم حجم کے لحاظ سے ممکنہ سطح تک کام نہیں ہوا۔ کارمن کے مطابق اسرائیل کی تجارت کے مجموعی حجم میں ترکی کی نمائندگی 10 سے 15% تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کاروباری شخصیات نہیں بلکہ دونوں حکومتوں کے درمیان سیاسی نوک جھونک ہے۔ دونوں ملکوں کے بیچ تجارت تو قابل قبول ہے۔دوسری جانب ترک پروفیسر محمد اِرکان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی مسائل کے ساتھ بھی جب تک اسرائیل ہمارے لیے اچھی مارکیٹ رہا تب تک کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی اور کام متاثر نہیں ہو گا۔ ہمارے درمیان اس وقت بھی 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا سالانہ تجارتی حجم ہے۔سال 2020 میں کرونا وائرس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تاہم اس کے باوجود رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران اسرائیل کے لیے ترکی کی برآمدات کی مالیت 3.2 ارب ڈالر رہی۔ یہ حجم گذشتہ برس اسی عرصے میں سامنے آنے والے حجم کے تقریبا برابر ہے۔ البتہ 2020 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 2019 کے اسی عرصے کے مقابلے میں ترکی کی جانب سے اسرائیل کو خشک میوہ جات کی فروخت میں 64% ، مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات میں 36%، اجناس کی فروخت میں 18% اور پھلوں اور سبزیوں کی فروخت میں 25% کا اضافہ ہوا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More